چینی سائنس دانوں نے شاید یہ معلومات چھوٹے پیمانے پر جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے استعمال کی ہوں۔وائن موریسن نے مارچ میں امریکہ چین تجارتی تعلقات کے بارے میں امریکی کانگریس کے ممبران کے لیے تیارکردہ ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ جب سائبر جاسوسی کی بات کے جائے تو چین کی حکومت اس کی ’بڑی مرتکب‘ ہے۔سنہ 2011 میں امریکی پارلیمان میں انٹیلی جنس کی کمیٹی کے چیئرمین مائیک راجرز نے جاسوسی کو ’چینی حکومت کی بڑی مہم‘ کے طور پر بیان کیا تھا۔سینٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے جیمز اینڈیو لیوس نے واشنگٹن پوسٹ میں لکھا تھا کہ امریکہ میں انٹلیکچول پراپرٹی کی چوری میں سب سے زیادہ ہاتھ چین کا ہے۔ یہ چوری امریکہ کو تقریباً ’100 ارب ڈالر سالانہ‘ کا نقصان پہنچاتی ہے۔ہاؤ ژینگ اور وی پینگ نے یونیورسٹی آف سدرن کیلی فورنیا سے الیکٹریکل انجنیئرنگ کی تعلیم حاصل کی تھی۔ انھوں نے ایک ساتھ امریکی حکومت کی تعاون سے چلنے والی ایک خفیہ ترین تنظیم ڈارپا (ڈیفنس ایڈوانسڈ ریسرچ پراجیکٹس ایجنسی) کے لیے کام کیا تھا۔وفاقی استغاثہ کے مطابق وہ پھر تیاجن یونیورسٹی میں پروفیسر بن گئے، اور بعد میں انھوں نے جاسوسی شروع کر دی۔عدالتی دستاویز کے مطابق 35 سالہ وی پینگ اور زاؤ ژینگ نے دو امریکی کمپنیوں اواگو ٹیکنالوجی اور سکائی ورکس سلوشنز سے تجارتی راز چوری کیے تھے، جہاں وہ ملازمت کرتے تھے۔یہ ٹیکنالوجی بیش قیمت تھی۔ اس کا استعمال موبائل فون کی کارکردگی میں بہتری اور فوجی کمیونی کیشن کے لیے بھی ہو سکتا تھا۔




















































