جو آج بھی اپنی آب و تاب سے دنیا کو جنگ و جدل کا سماع پیش کرتا ہے اس کی دیواروں میں لگے پتھر آج بھی سیاحوں کو ان دنوں کی داستان سناتے ہیں یہ قلعہ کوہستان نمک کی سرزمین کے درمیان میں ہے۔
علاقائی طورپر شیر شاہ سوری کا تعلق افغانساتن کے مشہور علاقے روا سے تھا اس کے دادا ابراہیم سوری اپنے بیٹے حسن خان سوری کے ساتھ بہلول لودھی کی درخواست پر ہندوستان آئے اور نرتول کے پرگنہ علاقے میں آباد ہوگئے شیر شاہ سوری جس نے سوری خاندان کی بنیاد رکھی سہرام میں پیدا ہوا 1545ء میں کالجز کی جنگ میں وفات پا گیا اس قلعہ کی تعمیر کا بنیادی مقصد مغل شہنشاہ ہمایوں جو کہ شکست کے بعد ایران بھاگ گیا تھا اس کی ممکنہ واپسی اور کشمیریوں ٗ گھکڑوں پر نظر رکھنا تھا جو کہ مغلوں کے پرانے دوست تھے۔
بے قاعدہ ہیت والے اس دیوقامت قلعے کا محیط چارکلو میٹر سے زیادہ ہے جبکہ اندرونی رقبہ175ایکڑ ہے اس کی موٹی فصیل جو کہ دو سے تین چبوتروں یا تختوں پر مشتمل ہے جو پہاڑوں کے نشب و فراز پر بنائی گئی ہے یہ فصیل30سے40 فٹ تک چوڑی جبکہ پچاس سے ستر فٹ تک اونچی ہے اس میں مضبوتی کے لئے72 برج40 دروازے اور تقریباً 2377 کنگرے ہیں جن پر تیرانداز فوجیوں اور دشمنوں پر گرم پانی ٗ انڈیلنے کے لئے خاص سوراخ موجود ہیں۔
قلعے کے اندرونی حصوں کو ایک دیوار کی مدد سے دو حصوں میں تقسیم کیاگیا تھا۔ اوپر والا مغربی حصہ جو زیادہ تر شاہی خاندان کے استعمال میں رہا اسے انڈر کوٹ کہا جاتا تھا جبکہ قلعے کا باقی حصہ جو سپاہیوں کا ہگزر اور قلعہ کی تعمیر کرنے والوں کے استعمال میں رہا آرمی ایریا یا بنیادی قلعہ کہلاتا تھا۔ اندرکوٹ دو ر ہائشی عمارتوں حویلی مان سنگھ اور رانی محل پر مشتمل تھا۔ قلعے میں سوری زمانے کے مسلم فن تعمیر کا سب سے اعلیٰ اور دلکش نمونہ شاہی مسجد ہے اس قلعے کے اندر پانی کی ضروریات پورا کرنے کے لئے سیڑھیوں والے تین کنویں بھی موجود تھے اس کی دلکشی اعلیٰ کاریگری ٗ عظیم فن تعمیر ٗ تاریخی اور آرکیالوجیکل اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے 1997ء میں اسے تاریخی عالمی ورثہ کی فہرست میں شامل کرلیا گیا اور اسے یادگار کو تحفظ نوادرات کے قانون1975ء کے تحت محفوظ قرار دیاگیا۔
مین گیٹ سے اندر جاتے ہی انسانوں کی ایک بستی نظر آتی ہے جو وہاں کی رونق بھی ہے اور قلعے کی تاریخ کی محافظ بھی میں دروازہ جس کو شہری دروازہ بھی کہا جاتا ہے آج بھی اپنی اصلی حالت میں موجود ہے جس میں لگے پتھروں کے وزن کا سوچ کر اس دور کے مزدوروں کی اہمیت کو داد دینے کا جی چاہتا ہے۔ قلعہ روہتاس ان چند قلعوں میں سے ہے جو ہاتھ سے اکٹھا کیا ہوا پتھر لے کر بنائے گئے ہیں اس کی دیواروں کا ڈیزائن سادہ لیکن مضبوط ہیں ان میں بندوقیں رکھنے ٗ سپاہیوں کے کھڑے ہونے کے لئے مورچے بھی بنے ہوئے ہیں جہاں سے سارا علاقہ صاف نظر آتا ہے اس کے اندر شیر شاہ سوری موزیم بھی ہے جہاں شاہی خاندان سے وابستہ چیزیں رکھی گئی ہیں۔
رانی محل ٗ طلاقی گیٹ ٗ پھانسی گیٹ ٗ شیشی لنگر خانہ گیٹ ٗ حویلی مانگ سنگھ شاہی مسجد سیاحوں کی توجہ کا خاص مرکز ہیں قلعے کے ایک طرف پارک بھی بنایاگیا ہے جہاں لوگ اپنی فیملیز کے ساتھ آتے اور لطف اندوز ہوتے ہیں۔
لفظ روہتاس کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں کچھ لوگ کہتے ہیں اس کا مطلب ہے انڈے کی طرح چمکنے والا قلعہ۔ اپنے مخصوص تعمیراتی میٹریل کی وجہ سے یہ رات مین چاند کی روشنی میں چمکتا نظر آتا ہے۔ یہاں یہ بھی حقیقت ہے کہ روہتاس گڑھ نامی قلعہ آج بھی ہندوستان میں موجود ہے اور اس کا ذکر شیر شاہ سوری کے عہد میں کافی بار آیا ہے حکایات پنجاب کے اندر بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔ جہلم کی تاریخ بہت سے تاریخی مقامات اور کھنڈرات لئے ہوئے ہے۔ کہیں زمین کی تہون میں ماضی آج بھی سسکیاں لے رہا ہے مگر ماضی کے ان جھروکوں سے اٹھنے والی ان سرگوشیوں ٗ آہوں ٗ چیخوں اور کراہوں کو سننے کا متحمل ہر زی رو نہیں ہو سکتا۔



















































