بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

سفارش… کھا گئی !

datetime 6  مئی‬‮  2015 |

اشرافیہ کے بچے یا تو ملک سے باہر تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور اگر پاکستان میں پڑھ بھی رہے ہیں تو بیکن ہاؤس‘ فرابلز‘ روٹس ‘ لاہور گرائمر اور سٹی سکولوں میں جبکہ غریب کے بچے ٹاٹ سکولوں میں یا پھر چندے کے مدرسوں میں علم کی روشنی سے مستفید ہو رہے ہیں۔ آپ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک کا تعلیمی سلیبس اٹھا کر دیکھ لیں‘ پورے ملک میں ایک ہی طرز تعلیم رائج ہو گا‘ معاشرے کے اعلیٰ دماغ سکولوں‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعینات ہوں گے اور ہمارے یہاں میٹرک پاس استاد اور استانیاں قوم کے معماروں کو تربیت دے رہی ہیں۔ پوری دنیا میں استاد طلباء کی ذہنی اپروچ دیکھ کر ان کو متعلقہ فیلڈ میں ڈالتے ہیں ‘ وہ ڈگری لیتے ہیں تو نوکری ان کا انتظار کر رہی ہوتی ہے‘ انہیں اپنی زندگی کا راستہ تلاش نہیں کرنا پڑتا جبکہ ہمارے ہاں طلباء ماسٹر کر لیتے ہیں‘ پی ایچ ڈی کر لیتے ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں یہ سمجھ نہیں آتی ہماری راہ کون سی ہے۔ شائد یہی وجہ ہے نوجوان رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے بے راہ روی کا شکار ہو رہے ہیں اور یہ جرائم پیشہ گروہوں کا حصہ بن رہے ہیں۔
دنیا کی تاریخ میں آج تک اس قوم نے ترقی نہیں کی جس نے اپنے مستقبل (نوجوانوں) کو نہیں بچایا‘ جس نے انہیں تعلیم سے فیضیاب نہیں کیا‘ ہم میں جب تک علم کی اہمیت باقی رہی ‘ جب تک علم محض ڈگری کا نام نہیں تھا بلکہ کوفہ و بغداد کی لائبریریوں میں کائنات کے رازوں سے پردے اٹھائے جا رہے تھے اس وقت تک ہم پوری دنیا پر غالب تھے اور جب سے ہم نے علم اور میرٹ کو خداحافظ کہا ہے عزت و مقام اور خوشحالی و ترقی غیر مسلموں سے منسوب ہو کر رہ گئی ہے ۔ آپ غور کریں دنیا کی 100 بڑی یونیورسٹیوں میں آج ایک بھی اسلامی یونیورسٹی شامل نہیں اور اس کا نتیجہ ہے پاکستانی نوجوان قلم بعد میں پکڑتا ہے گن پہلے سنبھالتا ہے۔ یقین کیجئے جب تک ہم میرٹ اور علم کو اپنا اصول نہیں بنائیں گے اس وقت تک ہو سکتا ہے اشرافیہ کا راج باقی رہے لیکن 95 فیصد ہمارے جیسے لوگ اپنے بیٹوں کی سفارش کیلئے دھکے کھاتے رہیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…