جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے ایک اور خطرناک اثر کا انکشاف

datetime 24  مئی‬‮  2023 |

نیویارک(این این آئی)عالمی درجہ حرارت میں اضافہ کروڑوں افراد کو نقل مکانی پر مجبور کر دے گا، کیونکہ ان کے لیے اپنے آبائی مقامات میں رہنا بہت مشکل ہو جائے گا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ بات ایک نئی تحقیق میں سامنے آئی۔

جرنل نیچر میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ موجودہ رجحان کو مدنظر رکھا جائے تو رواں صدی کے اختتام تک عالمی درجہ حرارت میں صنعتی عہد کے مقابلے میں 2.7 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہونے کا امکان ہے۔اس اضافے کے نتیجے میں دنیا کے بیشتر ممالک میں اوسط درجہ حرارت انسانی برداشت سے باہر ہو جائے گا اور وہ ریکارڈ گرمی اور موسمیاتی شدت کا سامنا کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔تحقیق کے مطابق 2030 تک ہی 2 ارب افراد کے لیے سالانہ اوسط درجہ حرارت 29 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہو جائے گا اور بہت کم برادریاں اتنے درجہ حرارت میں زندگیاں گزارنے کی عادی ہیں۔محققین نے بتایا کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث ایک ارب افراد زیادہ ٹھنڈے مقامات کی جانب نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوں گے، مگر ان مقامات پر بھی اکثر ہیٹ ویوز اور خشک سالی کا سامنا ہوگا۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر زہریلی گیسوں کے اخراج میں کمی اور عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں تو شدید درجہ حرارت کا سامنا کرنے والے افراد کی تعداد میں 80 فیصد کمی لانا ممکن ہے۔یہ اپنی طرز کی پہلی تحقیق ہے جس میں درجہ حرارت میں اضافے سے انسانی رہائشی مقامات پر مرتب اثرات کا جائزہ لیا گیا۔تحقیق میں بتایا گیا کہ ہزاروں سال سے انسانی آبادیاں مخصوص درجہ حرارت میں پھیل رہی ہیں اور بیشتر افراد ایسے مقامات پر مقیم ہیں جہاں کا اوسط سالانہ درجہ حرارت 13 سے 25 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان ہوتا ہے۔

اس سے زیادہ یا کم درجہ حرارت بہت زیادہ گرم یا ٹھنڈے موسم کا باعث بنتا ہے جبکہ اموات کی شرح بڑھ جاتی ہے۔اسی طرح درجہ حرارت خوراک کی پیداوار اور اقتصادی شرح نمو پر بھی اثرات مرتب کرتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ برداشت سے زیادہ درجہ حرارت مختلف مسائل جیسے اموات میں اضافے، لوگوں کی پیداواری صلاحیت میں کمی، دماغی افعال کی تنزلی، سیکھنے کے عمل پر منفی اثرات، فصلوں کی پیداوار متاثر ہونے اور وبائی امراض کا باعث بنتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…