جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

بڑی تعداد میں بچوں کی اموات کے بعدبھارت نے کھانسی کے شربت کی برآمد سے قبل ٹیسٹ لازمی قراردیدیا

datetime 24  مئی‬‮  2023 |

نئی دلی(این این آئی)انڈونیشیا،گیمبیا اور ازبکستان میں بھارت کے بنے ہوئے کھانسی کے شربت سے نچوں کی اموات کے بعد بھارت میں مودی حکومت نے کھانسی کا شربت بنانے والی کمپنیوں کے لیے اپنی مصنوعات کی برآمد سے قبل نمونوں کی جانچ کروانا لازمی قرار دے دیا ہے۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ڈائریکٹر جنرل آف فارن ٹریڈ کی جانب سے جاری ایک نوٹیفکیشن میں کہا گیاہے کہ کھانسی کے شربت کو برآمد کرنے کی اجازت صرف برآمدی نمونے کی جانچ کے بعد ہی دی جائے گی ۔نوٹیفیکیشن میں مزید کہاگیا ہے کہ یکم جون سے ان کمپنیوں کو حکومت سے منظور شدہ لیبارٹری سے تجزیے کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا۔ڈائریکٹر جنرل آف فارن ٹریڈنے بھارت بھر میں مرکزی اور ریاستی حکومت کی لیبارٹریوں کی ایک فہرست بھی جاری کی ہے جہاں شربت کے نمونوں کی جانچ کروائی جاسکتی ہے۔قانون میں یہ تبدیلی اس وقت کی گئی ہے جب گیمبیا ، ازبکستان اورانڈونیشیا میں بعض ہندوستانی ساختہ کھانسی کے شربت کے باعث بچوں کی اموات کے بعد عالمی ادارہ صحت نے بھارتی ساختہ گھانسی کے شربت کے بارے میں الرٹ جاری کیاتھا۔ان تنازعات نے ہندوستان کی دوا سازی کی صنعت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔کئی ہندوستانی فارما کمپنیاں اپنی ادویات کے معیار کی وجہ سے جانچ کے دائرے میں آ چکی ہیں اور ماہرین نے ان کی مینوفیکچرنگ کے طریقوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔مارچ میں بھارت کے ڈرگ ریگولیٹر نے ماریون بائیوٹیک کا مینوفیکچرنگ لائسنس منسوخ کر دیا تھا، جس کی کھانسی کے شربت سے ازبکستان میں 18 بچوں کی موت واقع ہو گئی تھی ۔واضح رہے کہ بھارتی ساختہ کھانسی کے شربت سے گزشتہ سال اکتوبر میں انڈونیشیامیں 99 اور افریقی ملک گیمبیا میں 66بچوں اور،دسمبر میں ازبکستان میں 18بچوں کی موت واقع ہو گئی تھی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…