جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا عندیہ دے دیا گیا

datetime 16  مئی‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)پبلک اکائونٹس کمیٹی (پی اے سی)نے چیف جسٹس اور ججز کی مراعات کی تفصیلات طلب کرلیں۔منگل کو پی اے سی کا اجلاس چیئرمین نور عالم خان کی صدارت میں ہوا جس میں صدرِ مملکت، وزیر اعظم، ججز، وزرا، اراکین قومی اسمبلی، اور بیوروکریٹس کی تنخواہوں کی تفصیلات پیش کی گئیں۔

چیئرمین پی اے سی نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ صدر مملکت کی تنخواہ 8 لاکھ 96 ہزار 550 روپے ماہانہ ہے جبکہ وزیر اعظم کی ماہانہ تنخواہ 2 لاکھ ایک ہزار 574 روپے ہے۔انہوں نے بتایا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی ماہانہ تنخواہ 15 لاکھ 27ہزار 399 روپے، سپریم کورٹ کے جج کی تنخواہ 14 لاکھ 70 ہزار 711 روپے جبکہ گریڈ 22 کے افسران کی تنخواہ 5 لاکھ 91 ہزار 475 روپے ماہانہ ہے۔چیئرمین نور عالم خان نے کہا کہ وفاقی وزیر کی تنخواہ 3 لاکھ 38 لاکھ 125 روپے، ایم این اے کی تنخواہ ایک لاکھ 88 ہزار روپے ماہانہ ہے۔پی اے سی اجلاس کو اٹارنی جنرل منصور اعوان نے بھی بریفنگ دی۔پی اے سی نے چیف جسٹس اور ججز کی مراعات کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔نور عالم خان نے کہا کہ ڈیم فنڈ کے قیام کے وقت سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے خود لکھا تھا کہ فنڈ کا آڈٹ ہوگا جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کو ملنے والے تمام فنڈز پبلک فنڈز ہوتے ہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ ڈیم فنڈ کی رقم کو پبلک اکائونٹ کے بجائے کسی اور اکائونٹ میں رکھا گیا، جس مقصد کے لیے عوام نے عطیات دیے وہ پورا ہوا یا نہیں یہ بحث بعد کی ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ قانون کے مطابق ڈیم فنڈ کا آڈٹ ہونا چاہیے، پی اے سی کو آڈٹ حکام کی نشاندہی پر سپریم کورٹ سے معلومات لینے کا اختیار حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ معلومات فراہم کرنا سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے، سپریم کورٹ کا بجٹ چارجڈ ہوتا ہے جس پر ووٹنگ نہیں ہو سکتی جس پر پی اے سی چیئرمین نے کہا کہ ووٹنگ نہیں ہو سکتی لیکن آڈٹ ہو سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…