ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

محکمہ ایکسائز کا گاڑیوں کے رجسٹریشن کارڈز ختم کرکے ورچوئل کارڈز متعارف کروانے کا فیصلہ

datetime 19  اپریل‬‮  2023 |

محکمہ ایکسائز کا گاڑیوں کے رجسٹریشن کارڈز ختم کرکے ورچوئل کارڈز متعارف کروانے کا فیصلہ

مکوآنہ (این این آئی)محکمہ ایکسائز نے گاڑیوں کے رجسٹریشن کارڈز ختم کرکے ورچوئل کارڈز متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے، اس حوالے سے ایکسائزحکام کا کہنا ہے کہ موجودہ رجسٹریشن کارڈز مختلف وجوہات کی بنا پر تاخیر کاشکار رہتے ہیں۔میٹریل بیرون ملک سے منگوایاجاتا ہے جس میں تاخیرپر لاکھوں کارڈز زیر التوا ہوجائے ہیں۔ورچوئل کارڈز کے آغاز سے فوری طور پر شہری اپنے فون سے پرنٹ نکلوا سکیں گے۔جن شہریوں کے پاس موبائل موجود نہیں ہونگے وہ ویب سائٹ میں گاڑی نمبر چیسی نمبراور رجسٹریشن کی تاریخ بتاکر پرنٹ نکلوا سکیں گے۔ ورچوئل کارڈ کی فیس بھی معمولی مقرر کی جائے گی۔ قبل ازیں سمارٹ کارڈز کی قیمت 530روپے اورڈلیوری چارجز علیحدہ وصول کئے جارہے ہیں۔ پولیس اور ایکسائز حکام گاڑی کے کاغذات ان لائن اپنے فون پر چیک کرسکیں گے۔ ورچوئل کارڈزکے آغاز سے کاغذات چوری اورڈپلیکیشن کا خاتمہ ہوگا۔ڈی جی ایکسائزنے 7 رکنی کمیٹی تجاویز کیلئے تشکیل دے دی ہے جو ورچوئل کارڈز کے آغاز اور ایس او پیز کے لئے کمیٹی رواں ہفتے رپورٹ جمع کروائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…