اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہونے والی وفاقی وزیر مفتی عبدالشکور کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ میں وہ مولوی ہوں جس کی اپنی کوئی خواہش نہیں،کوئی بنگلہ نہیں، خدا کی قسم آپ میرے گھر جا سکتے ہیں کوئی ایک اینٹ بھی پکی نہیں ہے، میڈیا پر بھی لوگ دکھاتے ہیں،
آپ جا سکتے ہیں، میں اب بھی پشاور میں ایک مسجد کے گھر میں رہتاہوں،وہاں مسجد میں امام ہوں، ان کے اس بیان نے پوری قوم کو تڑپا کر رکھ دیا ہے، ان کا ویڈیو میں کہنا تھا کہ مجھے آفر آنا شروع ہو گئیں، ہوٹلوں والے اور کیٹرنگ کمپنیوں والے مجھ سے ملے،جو عام طور پر کمیشن دیتے ہیں، ایک حاجی کا 1500 ریال کمیشن ہوتاہے جو کہ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ بنتا ہے۔انہوں نے ویڈیو میں کہا کہ کتنے کمیشن خور لوگ پچھلے گزر چکے ہیں، وقت نہیں ہے میں اتنا کہتاہوں کہ اللہ نے مدد کی،میں کامیاب ہوا، میں نے حاجی کو فائیو سٹار ہو ٹلوں میں فی کس 2100 ریال میں ٹھہرا دیا، مدینہ منورہ میں اگر پاکستان سے بھی وزیراعظم جاتا ہے تو فائیو سٹار ہوٹل میں ٹھہرتا ہے،میں نے اپنے حاجی کو فی کس 700 ریال میں ہیلٹن جیسے فائیو سٹار ہوٹل میں ٹھہرا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں چپڑاسی سے لے کر وزیراعظم تک سارے چور ہوتے ہیں اسی لئے ملک تباہ ہے، ان کا کہنا تھا کہ بیس ارب روپے روزانہ کی بنیاد پر کرپشن ہوتی ہے، انہوں نے ویڈیو بیان میں کہا کہ میں نے اپنی وزارت میں سے کمیشن کو ختم کیا۔ دوسری جانب وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں کہا کہ ہم سب مفتی عبدالشکور کی وفات پر رنجیدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میری ان سے پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب ہم 2018 میں منتخب ہو کر آئے تو بطور اپوزیشن ان سے کبھی کبھی ملاقات ہوتی تھی مگر جب وہ کابینہ میں آئے تو ان کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، مفتی عبدالشکور ہماری کابینہ کے نگینہ تھے، وہ انتہائی ایماندار شخصیت اور جید عالم تھے،
اب پتہ چلا کہ وہ مسجد سے متصل ایک چھوٹے سے گھر میں رہتے تھے، انہوں نے اپنی انتخابی مہم موٹر سائیکل پر چلائی، وہ اپنی بات کرنے میں کسی جھول کے بغیر بڑے ماہر تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں ایک راز بتانا چاہتا ہوں کہ جب کابینہ نے یہ فیصلہ کیا کہ ملک کے سخت اور مشکل حالات میں جو بھی رکن اپنی تنخواہ اور مراعات سرنڈر کرنا چاہے تو ہم اسے خوش آمدید کہیں گے، کابینہ کی بڑی تعداد نے ہمارے اس فیصلہ سے اتفاق کیا،
مفتی صاحب نے بھی بات کرنے کی اجازت مانگی اور کہا کہ وزیراعظم میرا گزارا اس تنخواہ کے بغیر نہیں ہو سکتا اور وہ مجھے کہنے لگے کہ وزیراعظم آپ کو میری یہ بات بری تو نہیں لگی تو میں نے ان سے کہا کہ مجھے آپ کی بات بہت اچھی لگی کیونکہ وہ ایک سچے شخص تھے، اللہ تعالی کی ذات، موت اور رزق حلال پر کامل یقین رکھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سابق ادوار میں حج سے متعلقہ شکایات موصول ہوتی تھیں مگر اس مرتبہ مفتی عبدالشکور نے بطور وزیر مذہبی امور بڑی خوش اسلوبی سے حج انتظامات کرائے اور ان تمام انتظامات کا سہرا مفتی عبدالشکور کے سر ہے کیونکہ انہوں نے سعودی عرب میں ڈیرے جمائے اور خود تمام حج انتظامات کی نگرانی کی۔