ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

شہبازشریف توہین عدالت پر گئے تو وزیراعظم کون بنے گا؟ سابق وزیراعظم شاہد خاقان نے بتادیا

datetime 14  اپریل‬‮  2023 |

کراچی (این این آئی) سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کہا ہے کہ سادے کاغذ پر لکھوالیں، میں وزارتِ عظمی کاامیدوارنہیں، اب آپ کو وزیر اعظم ڈھونڈنے پڑیں گے۔تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما شاہد خاقان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ عدالتوں میں کیمرہ لگائے جائیں تاکہ عوام کو علم ہو سکے،

عدلیہ ہر چیز کا نوٹس لیتی ہے سوائے یہ دیکھنے کہ عدالتوں میں کیا ہو رہا ہے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہر شخص کی نظریں اس وقت سپریم کورٹ پر لگی ہوئی ہیں،آج ملک کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے،ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں۔صحافی نے سوال کیا کہ شہبازشریف اورکابینہ توہین عدالت پر گئے توکیاآپ پھروزیراعظم بنیں گے تو سابق وزیراعظم نے کہا سادے کاغذ پر لکھوا لیں میں وزارتِ عظمی کاامیدوارنہیں، اب آپ کو وزیر اعظم ڈھونڈنے پڑیں گے۔انہوںنے کہا کہ ایسا قانون جو پارلیمان نے پاس کیا صدر نے دستخط نہیں کئے، قانون پر عدالتیں تشریح کر سکتی ہیں لیکن قانون بنانا عوام کے نمائندوں کا کام ہے،اج ملک کی ضرورت ہے کہ ہر ادارہ اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرے۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ جب عدالتیں اپنی من مانی شروع کر دیں پھر انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے، آج ملک میں انتشار کی کیفیت ہوگی تو اس کا اثر ملک کی معیشت پر پڑتا ہے۔موجودہ چیف جسٹس اپنی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں یا نہیں اس کا فیصلہ تاریخ یا عوام کرے گی،دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا کہ فیصلوں پر اپیل نہ ہو۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نیب میں پیشیوں کو چوتھا سال شروع ہوگیا ہے،چیف جسٹس کی ذمہ داری ہے کہ عدالتوں سے انصاف ملے، سوموٹو تو لیا جاتا ہے کبھی یہ نہیں دیکھا جاتا کہ عدالتوں میں کیا ہو رہا ہے۔انہوںنے کہا کہ آج سڑک پر چلنے والا شخص بھی یہ بتا سکتا ہے کہ

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…