ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

برطانوی شاہی خاندان نے تحفے میں ملنے والے گھوڑے بیچ دئیے

datetime 9  اپریل‬‮  2023 |

لندن(این این آئی)برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوئم اور ملکہ الزبتھ دوم نے دبئی کے شیخ محمد بن راشد المکتوم، سعودی عرب کے شہزادہ فیصل اور قطر کے الثانی خاندان سمیت قابل ذکر ریاستوں کو اپنے گھوڑے بیچ کر تقریبا2ملین پائونڈ کمائے ہیںجس کے بعد شاہی خاندان کے لئے بنائے گئے تحائف قبول کرنے

کے رہنما اصولوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔برطانوی اخبار کے مطابق بکنگھم پیلس نے دعویٰ کیا کہ یہ گھوڑے ان کے ذاتی تحائف تھے۔1978میں مغربی جرمنی کے سرکاری دورے کے دوران انہیں دو گھوڑے دیے گئے۔دبئی کے امیر اور متحدہ عرب امارات کے وزیر اعظم شیخ محمد بن راشد المکتوم ملکہ برطانیہ کے ریسنگ اور افزائشی گھوڑوں کے سب سے بڑے سپلائر ہیں۔برطانوی شاہی خاندان کو پیش کیے گئے کم از کم34گھوڑے انہی کی طرف سے آئے ہیں۔ایسٹیمیٹ نامی گھوڑا جس نے ملکہ کو روئل اسکوٹ میں2013کے گولڈ کپ میں ٹریک پر فتح دلائی، کہا جاتا ہے کہ ان پانچ گھوڑوں میں شامل تھا جو پرنس شاہ کریم الحسینی آغا خان نے شاہی خاندان کو تحفے میں دیے تھے۔برطانوی اخبار کی ایک تحقیق کے مطابق، الزبتھ کو کل41گھوڑے ملے جنہوں نے گزشتہ15سالوں کے دوران ریس میں حصہ لیا۔پچھلے دس سالوں میں ان میں سے29کو عوامی طور پر نیلامی کے لیے پیش کیا گیا اور کل1.93ملین پاونڈ حاصل کئے گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…