ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

تمام معاملات پر مذاکرات کے دروازے بند کرنا کوئی حل نہیں، پیپلزپارٹی کور کمیٹی کے اجلاس میں اہم فیصلے

datetime 7  اپریل‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ تمام معاملات پر مذاکرات کے دروازے بند کرنا کوئی حل نہیں،سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے پر عمل درآمد کیا جائے، اقلیتی اور آئین کے منافی فیصلے ناقابل برداشت ہیں، قانونی، اخلاقی اور سیاسی طور پر فیصلے کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔پیپلزپارٹی کے میڈیا سیل سے

جاری اعلامیہ کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کور کمیٹی کا اجلاس جمعہ کی شام زرداری ہائوس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس کی صدارت مشترکہ طور پر پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے کی۔ اس اجلاس میں سید یوسف رضا گیلانی، سید نیر حسین بخاری، نوید قمر، رضا ربانی، قمر زمان کائرہ، شیری رحمن، وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ، شازیہ عطا مری، نثار کھوڑو، محمد علی شاہ باچا، ہمایوں خان، فیصل کریم کنڈی، اخونزادہ چٹان اور فرحت اللہ بابر نے شرکت کی۔ ایک بیان میں پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے سیکرٹری جنرل فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مذاکرات کے دروازے بند کرنا کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا، اس مقصد کیلئے پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ اتحادی حکومت میں شامل تمام پارٹیوں سے رابطہ کرکے سیاسی پارٹیوں میں مذاکرات کے نکتے پر ایک مشترکہ پوزیشن اختیار کی جائے۔ پارٹی نے کہا کہ موجودہ بحران کی متعدد وجوہات ہیں جن میں سے ایک بات پر اصرار ہے کہ عدالت کا اقلیتی فیصلہ اکثریتی فیصلے پر فوقیت حاصل کر لے،اس موقف کا قانونی، اخلاقی اور سیاسی طور پر کوئی جواز نہیں اور اس پر نظرثانی کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات اشد ضروری ہے کہ عدلیہ کی ساکھ اور عزت کو زک پہنچانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے،اس کیلئے یہ ضروری ہے کہ عدلیہ کے متضاد فیصلوں کے مسئلے کو فوری طور پر حل کیا جائے۔

اعلامیہ کے مطابق پارٹی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ آزادانہ اور منصفانہ عام انتخابات کے لئے تمام اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی دن کرائے جائیں جیسا کہ آئین میں کہا گیا ہے، پارٹی نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ آئین کے مطابق عام انتخابات کی تاریخ میں کسی قسم کی تاخیر نہ کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…