منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

جاوید اختر کے بیان پر مجھے اپنے آپ پر شرم محسوس ہوئی، مستنصر حسین تارڑ

datetime 25  فروری‬‮  2023 |

لاہور (این این آئی)معروف ناول نگار، اداکار اور کالم نگار مستنصر حسین تارڑ نے بھارتی نغمہ نگار اور شاعر جاوید اختر کے پاکستان مخالف بیان کو بلا تبصرہ قرار دیا ہے۔لاہور جیسے ثقافتی اور تمدنی شہر میں ادبی سرگرمیوں کا نمائندہ میلہ لاہور لٹریچر فیسٹیول شروع ہوگیا جس

کی پہلی بھرپور نشست بے باک مصنف مستنصر حسین تارڑ کے نام رہی۔انہوں نے بھارتی شاعراور نغمہ نگارجاوید اختر سے متعلق کہا کہ جاوید اختر نے جو کہا اس پر مجھے اپنے آپ پر شرم محسوس ہوئی، ان کے فیض فیسٹیول میں کہے الفاظ کو تبصرے کے لائق بھی نہیں سمجھتا۔انہوں نے کہا کہ نوبل پرائز کے لیے اپنے معاشرے کو برا کہنا پڑتا ہے، مجھ میں یہ صفت نہیں ہے، پاکستان کے پرائیڈ آف پرفارمنس نگار اور کمال فن ایوارڈز کسی نوبل پرائز سے کم نہیں، میں بہت خواہش پسند نہیں مگر صاف گو ہوں اور منہ پھٹ شخص کو پسند نہیں کیا جاتا۔ مستنصر حسین تارڑ نے کہا کہ پنجاب کی دھرتی میں تخلیق کے جوہر ہیں، مصنف آنے والے واقعات کی پیش بندی کرتا ہے، جب میں لکھنے بیٹھا تو مجھ پر چیزیں اترتی ہیں، جس میں تخلیقی تڑپ ہوتی ہے وہی خالق کے قریب ہوکر لکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری قوم پاگل ہوگئی ہے اور برداشت کھو بیٹھی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…