جمعرات‬‮ ، 01 جنوری‬‮ 2026 

شیخ صاحب! آئندہ ایسی درخواست لائی تو مثالی جرمانہ کرینگے ،چیف جسٹس اطہر من اللہ شیخ رشید پر شدید برہم ہوگئے

datetime 27  ستمبر‬‮  2022 |

اسلام آباد(آن لائن)چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ سپریم ہے اس سے بڑا فورم کوئی نہیں ،پارلیمنٹ کی مزید بے توقیری نہ کی جائے یہی مائنڈ سیٹ ہے ۔یہ ریمارکس چیف جسٹس اطہر من اللہ نے 72 رکنی وفاقی کابینہ کی تشکیل کے خلاف شیخ رشید کی درخواست پر سماعت کے دوران دیئے ۔شیخ رشید اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے ۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ سیاسی نوعیت کی پٹیشن عدالت لانے پرشدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ ایسی پٹیشن لائی تو مثالی جرمانہ عائد کریں گے جس پر شیخ رشید کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس حوالے سے عدالت کے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی فورم نہیں ہے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس پارلیمنٹ کی بے توقیری بہت ہو چکی ایسی پٹیشن عدالت نہیں آنی چاہیے، پارلیمنٹ میں منتخب نمائندے ہیں وہ فورم ہے عدالت مداخلت نہیں کرے گی، پٹشنر جب حکومت میں تھے تو کیا آپ نے وہ معاونین خصوصی اور مشیروں کی لسٹ لگائی ہے ،شیخ رشید وزیر داخلہ تھے کیا انہوں نے اڈیالہ جیل کا دورہ کیا، ان کو اندازہ نہیں وہاں کیا ہو رہا تھا، اس موقع پر عدالت نے شیخ رشید سے مکالمہ کیا کہ شیخ صاحب آپ کا احترام ہے آپ پارلیمنٹ کی بے توقیری نا کریں ،یہ عدالت پارلیمنٹ کا بھی احترام کرتی ہے، غیر ضروری ایگزیکٹو کے اختیارات میں بھی مداخلت نہیں کرتی ،اگر آپ کا کوئی انفرادی بنیادی حقوق متاثر ہورہا ہے تو ضرور عدالت آئیں لیکن اس طرح کی درخواست لیکر نہ آئیں ۔

یہ آپ کی بے بنیاد پٹیشن ہے آپ کو جرمانہ بھی کر سکتے تھے لیکن تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں ،اس موقع پر عدالت نے کہا کہ جو بھی مقابلہ کرنا ہے پارلیمنٹ جائیں پارلیمنٹ سے بڑا فورم اور کوئی نہیں ہے، حکومت کا احتساب پارلیمنٹ خود کرتی ہے، آپ عدالت کو پارلیمنٹ کے احتساب میں کیوں لا رہے ہیں، شیخ صاحب آپ کا احترام ہے ،عدالتوں کو ان سیاسی معاملات سے دور رکھیں ،اس موقع پر شیخ رشید نے پٹیشن واپس لینے کی استدعا کی جس پر عدالت نے کہا کہ اس حوالے سے مناسب آرڈر پاس کریں گے ماضی میں عدالتوں کا غلط استعمال کیا گیا اب اس کو ختم ہونا چاہیے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…