جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

پی ٹی آئی کے کچھ لوگوں کی ٹیپس دیکھی ہیں لیکن وہ ۔۔۔حامد میرکا تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 5  جولائی  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر کا کہنا ہےکہ پی ٹی آئی کے کچھ لوگوں کی ٹیپس دیکھی ہیں لیکن وہ ٹی وی پر نہیں چلائی جاسکتیں۔نجی ٹی وی پروگرام  میں ٹیپس کے معاملے پر بات کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ تین چار سال پہلے جج ارشد ملک کی ایک ویڈیو ٹیپ آئی ان کے خلاف کارروائی ہوئی اور انہیں نوکری سے فارغ کیاگیا۔

اس پر سپریم کورٹ نے بھی ایکشن لیا اوراس کیس میں عدالت کا فیصلہ بھی موجود ہے۔سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ جو آڈیو یا ویڈیو ہے اس کو قابل قبول بنانے کے لیے کیا کیا شرائط ہونی چاہئیں، اس فیصلے میں 21 شرائط لکھی گئی ہیں، اس میں اہم ترین شرط ہے کہ آڈیو یا ویڈیو ٹیپ جس نے ریکارڈ کی اسے عدالت میں بتانا ہوگا کہ یہ میں نے ٹیپ کی اور کیوں کی ہے، عدالتی فیصلے کے مطابق کسی بھی ٹیپ کو قابل قبول بنانے کے لیے اس کا فارنزک بھی ضروری ہے، اس کی ٹرانسکرپشن کو عدالت میں پیش کرکے میچ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ٹیپس کے معاملے پر پی ٹی آئی کی لیڈر شپ کے مؤقف میں کافی تضاد ہے، شہباز گل ٹیپ کو جعلی قرار دے رہے ہیں جب کہ شیریں مزاری کہہ رہی ہیں کہ یہ ٹیپ سکیور لائن سے ریکارڈ کی گئی ہے مگر شیریں مزاری کا مطالبہ جائز ہےکہ بتایا جائے یہ کس نے ٹیپ کی ہے۔حامد میر کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ بھی ویڈیو ٹیپس کے بارے میں سن رہے ہیں۔

میرا خیال ہے وہ سامنے نہیں آئیں گی کیونکہ وہ سامنے لائی بھی جائیں تو آپ ان کو ٹی وی اسکرین پر پلے نہیں کرسکتے، جیسے جج ارشد ملک کی ویڈیو ٹیپ کے خلاف کارروائی ہوگئی لیکن وہ ٹی وی پر دکھانےقابل نہیں تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی کچھ ٹیپس آسکتی ہیں، کچھ میں نے بھی دیکھی ہیں جو عمران خان کی نہیں پی ٹی آئی کے کچھ صاحبان کی تھیں، جب میں نے وہ دیکھیں تو افسوس ہوا اور میرا خیال ہے کہ وہ ٹی وی اسکرین پر نہیں چل سکتیں۔حامد میر کا کہنا تھا کہ یہ ٹیپس آسکتی ہیں لیکن ان کی بنیاد پر کارروائی کا آگے بڑھنا کافی مشکل ہوگا‘۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ


میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…