نواز شریف کا اتحادی جماعتوں کے سربراہان کو ٹیلفون کیا باتیں ہوئیں؟ تفصیلات سامنے آگئیں

  پیر‬‮ 16 مئی‬‮‬‮ 2022  |  15:59

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک/آن لائن )پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے اتحادی جماعتوں کے سربراہان کو ٹیلی فون کیا اور انتخابی اصلاحات سے متعلق ن لیگ کے فیصلوں پر اعتماد میں لیا، عوام کو ریلیف دینے اور سبسڈی کو محدود کرنے پر بھی بات چیت کی گئی۔ذرائع کے مطابق معاشی پیکج اور انتخابی اصلاحات کی صورتحال کے پیش

نظر قائد ن لیگ نواز شریف نے اتحادی جماعتوں کے آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان، سردار اختر مینگل، خالد مقبول صدیقی، خالد مگسی، محمود اچکزئی و دیگر سے ٹیلیفونک رابطے کئے۔اس حوالے سے ذرائع کا بتانا تھا کہ نواز شریف نے آئندہ انتخابات سے قبل انتخابی اصلاحات سے متعلق ن لیگ کے فیصلوں پر اعتماد میں لیا، عوام کو ریلیف دینے اور سبسڈی کو محدود کرنے پر بھی بات چیت کی گئی، اتحادی جماعتوں کے سربراہان نے نواز شریف کو اپنے موقف سے آگاہ کیا۔ذرائع کے مطابق نواز شریف نے وزیراعظم شہباز شریف کو بھی تمام اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم سب سے مل کر ایک متفقہ لائحہ عمل مرتب کریں۔ادھر وزیراعظم کا آئندہ دو دن میں قوم سے خطاب بھی متوقع ہے، شہباز شریف قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھی تمام صورت حال رکھیں گے۔ دوسری جانب وزیرعظم شہبازشریف سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے صدر آصف علی زرداری نے ملاقات کی جس میں سیاسی صورتحال سمیت آئندہ کی حکمت عملی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا ۔تفصیلات کے مطابق وزیرا عظم شہباز شریف سے وزیراعظم ہائوس اسلام آباد میںاتحادی جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملاقات کی جس میں وزیر اعظم نے مولانا فضل الرحمان کو یقین دہانی کرائی کہ تمام فیصلے اتحادیوں کی مشاورت سے کیے جائیں گے اتحادیوں کو ساتھ لے کے چلوں گا ۔ بعد ازں وزیرعظم شہبازشریف سے سابق صدر آصف علی زرداری نے ملاقات کی ملاقات میں ملک کی معاشی سیاسی داخلی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سابق صدر کو دورہ لندن، نواز شریف سے ملاقات میں ہوئے فیصلوں پر اعتماد میں لیا جبکہ آئندہ بھی ساتھ چلنے اور مشترکہ فیصلہ سازی پر اتفاق کیا گیا ۔۔#/s#



زیرو پوائنٹ

گھوڑا اور قبر

میرا سوال سن کر وہ ٹکٹکی باندھ کر میری طرف دیکھنے لگے‘ میں نے مسکرا کر سوال دہرا دیا‘ وہ غصے سے بولے ’’بھاڑ میں جائے دنیا‘ مجھے کیا لوگ آٹھ ارب ہوں یا دس ارب‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا’’ آپ کی بات سو فیصد درست ہے‘ ہمیں اس سے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا‘ ہمارے لیے صرف اپنی ....مزید پڑھئے‎

میرا سوال سن کر وہ ٹکٹکی باندھ کر میری طرف دیکھنے لگے‘ میں نے مسکرا کر سوال دہرا دیا‘ وہ غصے سے بولے ’’بھاڑ میں جائے دنیا‘ مجھے کیا لوگ آٹھ ارب ہوں یا دس ارب‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا’’ آپ کی بات سو فیصد درست ہے‘ ہمیں اس سے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا‘ ہمارے لیے صرف اپنی ....مزید پڑھئے‎