ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں کورونا وائرس کی ایک اور قسم کی موجودگی کا انکشاف

datetime 21  اکتوبر‬‮  2021 |

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان میں کورونا وائرس کی ایک اور قسم کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے ۔جاپانی حکومت نے اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف)کے ذریعے کووڈ 19 ویکسین کو ذخیرہ کرنے کی قومی صلاحیت بڑھانے کیلئے65 لاکھ 90 ہزار ڈالر مالیت کا سامان اسلام آباد کو فراہم کیا۔ایک انٹرویومیں کووڈ 19 پر سائنسی ٹاسک فورس کے رکن ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا

کہ ایپسیلون نامی کووڈ 19 کی ایک خطرناک قسم کا پتا لگایا گیا ہے۔ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ یہ قسم کیلیفورنیا میں نمودار ہوئی تھی، اسی وجہ سے اسے کیلیفورنیا قسم یا B.1.429 کہا جارہا ہے جس کے بعد یہ برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک پہنچی۔انہوں نے کہا کہ اب پاکستان میں بھی اس کے کیسز سامنے آرہے ہیں اور اب تک ایپسیلون کی پانچ مختلف اقسام اور سات میٹیشنز ملی ہیں جس نے اسے زیادہ متعدی بنا دیا ہے۔ٹاسک فورس رکن نے کہا کہ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وائرس پر قابو پالیا گیا ہے لیکن ختم نہیں ہوا اس لیے اس کے دوبارہ پھیلا کے امکانات ہیں۔ڈاکٹر جاوید اکرم، جو یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر بھی ہیں، نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جین سیکوینسنگ کی مدد سے پاکستان میں 40 افراد کے اس قسم سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے لیکن یہ حقیقی اعداد و شمار نہیں ہیں کیوں کہ ہر مریض کی جین سیکوینسنگ نہیں کی جاتی۔انہوںنے کہاکہ مثبت پہلو یہ ہے کہ تمام ویکسینز ایپسیلون کے خلاف مثر ہیں، اس لیے لوگوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے چاہئیں اور معیاری طریقہ کار

(ایس او پیز) پر عمل کرنا چاہیے۔دوسری جانب وزارت قومی صحت (این ایچ ایس)اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی)نے ایک ویڈیو پیش کی جس میں اس بات کی وضاحت کی گئی کہ کووڈ 19 ویکسین کیسے کام کرتی ہے۔ویڈیو میں واضح کیا گیا کہ ویکسین بیماری کی وجہ نہیں بنتی بلکہ یہ جسم میں مدافعتی قوتوں کو کووڈ 19

کو پہچاننے اور وائرس کے جسم میں داخل ہونے پر جواب دینے کی تربیت دیتی ہے۔پاکستان کو جاپانی حکومت کے فنڈ کردہ اور یونیسیف کے ذریعے خریدے گئے 65 لاکھ 90 ہزار ڈالر مالیت کے کولڈ چین آپٹمائزیشن آلات موصول ہوئے ہیں تاکہ کووڈ ویکسین کو ذخیرہ کرنے کی قومی صلاحت کو بڑھایا جائے۔اس ضمن میں وزارت صحت سے جاری بیان کے مطابق پارلیمانی سیکریٹری ڈاکٹر نوشین حامد نے پاکستان میں یونیسیف کی

نمائندہ ایڈا گرما کی موجودگی میں جاپانی سفیر متسودا کونینوری سے یہ آلات وصول کیے۔اس موقع پر ڈاکٹر نوشین حامد نے کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ گزشتہ 70 برسوں کے سفارتی تعلقات کے دوران جاپان کی طرف سے کی گئی اہم شراکت کی قدر کرتے ہیں۔پارلیمانی سیکریٹری کا کہنا تھا کہ کئی برسوں سے دونوں ممالک کے درمیان صحت، تعلیم اور بجلی سمیت مختلف شعبوں میں شراکت داری ہے۔دوسری جانب جاپانی سفیر نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں پاکستان کے ساتھ صحت کے شعبے میں شراکت داری کا ایک نیا راستہ کھل جائے گا اور ذیابیطس سے نمٹنا بھی ایسا ہی ایک شعبہ ہو سکتا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…