جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

ڈالر کی قیمت 190 روپے کی سطح تک پہنچ جانے کی پیش گوئی

datetime 6  اکتوبر‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی(این این آئی) کراچی تاجر الانئس ویلفیئر ایسوسی ایشن کے چیئر مین ایاز میمن موتی والا نے کہا ہے کہ اگلے برس ڈالر 190روپے تک پہنچ جائیگا جبکہ ایک تولہ سونے کی قیمت ایک لاکھ تیس ہزار کی بلند ترین سطح کو چھوئے گا، جس کی بنیادی وجہ روپے کی قدر میں دن بدن کمی ہے پاکستان اس وقت ہر طر ف سے تکلیف میں ہے ، جب تک اپنی پراڈکٹس نہیں بنائیں گے

اور امپورٹڈ اشیاء منگواکر استعمال کرتے رہیں گے تب ہماری پاکستانی کرنسی کی قدر میں بہتری نہیں آئے گی اور جتنا روپیہ نیچے گر ے گا اتنا ہی ڈالر اورملکی قرضوں میں اضافہ ہوگا، ان خیالات کا اظہارانہوں نے ڈیفیس دفتر سے تاجروں کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا، ایاز میمن موتی والا نے کہا کہ ڈالر کی بلند ترین اڑان کے پیچھے امریکہ کی کوئی خاص ترقی نہیں ہے بلکہ وہ تو وہیں کھڑا ہے جہاں پہلے تھا بلکہ اس کی اہم ترین وجہ یہ ہے کہ پاکستان دن بدن پیچھے جارہا ہے اب تو امریکہ اور افغانستا ن کی جنگ بھی ختم ہوچکی ہے تو جو اربوں ڈالر وہاں ضائع ہورہے تھے وہ بھی امریکہ اپنی ترقی پر خرچ کریگا توہمار ا روپیہ مزید کم ہوتا چلا جائیگا جس سے ملکی قرضوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہوجائے گا، انہوں نے کہا کہ اس وقت اپنے روپے کی قدرکو بہتر کرنے کیلئے ہمیں اپنی انڈسٹریز کو سہولیات فراہم کرتے ہوئے ہر شعبے میں اپنی پروڈکشن بڑھانا ہوگی، جتنی ایکسپورٹ بڑھے گی اتنی ہی جلدی روپے کی قدر میں بہتری آئے گی پاکستانی تاجروں کو نئی منڈیوں کی تلاش اور ان تک رسائی کے لیئے کوششیں کرنا ہونگی ، پاکستانی

مصنوعات کی مانگ پوری دنیا کی منڈی میں ہے اپنے معیار کو مزید بہتر بنا کر نئے لوگوں تک اپنے مصنوعات کو پھیلائیں تا کہ کاروباری سرگرمیوںمیں اضافہ اور بیروزگاری میں کمی آئے جیسے ہی معیشت کا پہیہ تیزی سے گھومنا شروع ہوجائے گا ڈالر بھی نیچے آجائیگا اور سونا کے نرخ بھی کم ہوجائیں گے، اس وقت ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر کھڑا ہے اگر ابھی بھی ہم نے کوئی جامع پالیسی نہ بنائی اور مضبوط اقدامات نہ کیے تو ہماری معیشت تباہ و برباد ہوجائیگی اور غربت و بیروزگار ی میں اتنا اضافہ ہوجائیگا کہ جس کاکوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ


میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…