جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

امریکی عدالتوں کو عافیہ پر مقدمہ چلانے کا کوئی اختیار نہیں تھا، جسٹس (ر) وجیہہ الدین

datetime 3  ستمبر‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی(این این آئی)عام لوگ اتحاد کے رہنماجسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ پر جو الزام عائد کیاگیا تھا وہ مبینہ واقعہ افغانستان میں پیش آیا تھا اور قانونی اصول یہ ہے کہ جس ملک میں جرم سرزد ہو اہو مقدمہ بھی اسی ملک کی سرزمین پر چلتا ہے۔ افغانستان میں سرزد ہونے والے جرم کا ٹرائل امریکہ میں کیسے ہوا؟ اگر قانون کی پاسداری کی جاتی تو عافیہ کا کورٹ مارشل افغانستان میں ہوسکتا تھا۔

امریکی عدالتوں کو مقدمہ چلانے کا اختیار نہیں تھا۔وہ قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی امریکی جیل سے رہائی اور وطن واپسی کے لئے جاری جدوجہد کے سلسلے میں کراچی پریس کلب میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ مختلف سیاسی و سماجی رہنما بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کو جوچھیاسی سال کی سزادی گئی ہے اس عدالتی ٹرائل میں جیوری کی ، واقعات سے متعلق رائے درست نہیں تھی۔ ایسے اہم مقدمات کے فیصلے ساری دنیا میں سرکولیٹ (Circulate) ہوتے ہیں۔ڈاکٹر عافیہ جیسی جسمانی ساخت اور قوت رکھنے والی خاتون وہ گن (Gun) نہیں اٹھاسکتی تھی جس کا ان پر الزام عائد کیا گیاتھا۔ اگر انہوں نے گن اٹھابھی لی تھی تو کسی کا بھی بال تک بیکا نہیں ہواتھا پھر بھی 86 سال کی سزا دے کردرحقیقیت انہیں’’ سزائے موت‘‘(virtual death swntence) انائونس کر دی گئی تھی ۔جسٹس(ر) وجیہہ الدین احمدنے مزید کہا کہ عافیہ کے خلاف کاروائی کے سارے معاملے کو حکومت پاکستان کو اعلی سطح پر اٹھاناچاہئیے تھا۔ امریکی صدر عام طور پر اپنے دور صدارت کے آخری ایام میں ملزمان کو معافی دینے کا استحقاق استعمال کیا کرتے ہیں۔ پاکستانی حکومت کو عافیہ کی فیملی کو بھی گائیڈ کرنا چاہئیے تھا کہ وہ امریکی صدرسے عافیہ کی رہائی کی بات کریں اور خود بھی اپنی بے گناہ شہری کی رہائی کی بات کرنی چاہئیے تھی

مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ ابھی عافیہ پر حالیہ ہونے والا حملہ انتہائی تشویش کی بات ہے جس میں نہ صرف عافیہ کا چہرہ بری طرح جھلس گیا بلکہ ہاتھ پر زخم بھی آئے ہیں۔ عافیہ کے وکیل نے رپورٹ دی ہے کہ ماضی میں بھی عافیہ صدیقی پر اس طرح کے حملے ہوتے رہے ہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ عافیہ کو وہ حقوق بھی حاصل نہیں ہیں جو کہ ایک قیدی کو حاصل ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت کو بہت پہلے ہی جائزہ لینا تھا کہ عافیہ کے معاملے کو اگر انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں لے جانے میں کوئی قباحت ہے تو کیا انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا جا سکتا ہے؟ پھر انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس کو بھی مطلع کر کے مسئلے سے رجوع کرنے کی سعی کی جا سکتی تھی۔ عافیہ موومنٹ کو انٹرنیشنل لاء کے ایکسپرٹس کا ایک پینل ترتیب دینا چاہئیے جس سے میں بلا معاوضہ ہر طرح کے ضروری تعاون کے لئے ہر وقت تیار ہوں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ


میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…