بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

ہمارا پیارا ملک ہے اسے گوانتاناموبے نہ بنائیں،سپریم کورٹ

datetime 27  اگست‬‮  2021 |

اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے ریمارکس میں کہا ہے کہ 5 سال سے ایک شخص لاپتہ ہے اور ریاست کچھ نہیں کرسکی، لاپتہ افراد کا معاملہ سنجیدہ ہے ریاست کو ٹھوس اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ جمعہ کو سپریم کورٹ میں اسلام آباد کے رہائشی عمران خان کی گمشدگی سے متعلق کیس کی سماعت کے دور ان عدالت

نے لاپتہ عمران خان کی والدہ کو مالی امداد دینے سے متعلق جواب طلب کرلیا۔ اس موقع پر قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ ہائیکورٹ نے انسانی ہمدردی کی تحت لاپتہ شخص کی والدہ کی امداد کا حکم دیا جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ کوئی ایسا قانون نہیں جس کے تحت اس طرح کے لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو امداد دی جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک لاکھ 20 ہزار روپے ماہانہ لاپتہ شخص کی والدہ کو دینے کا حکم دیا۔قائم مقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس میں کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل صاحب ریاست کیلئے ایک 75 سالہ عورت کی امداد کرنا کتنا مشکل ہے، حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام بدل کر احساس پروگرام کر دیا ہے، احساس پروگرام کے تحت ہی بوڑھی عورت کی مدد کر دیں۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہمارا پیارا ملک ہے اسے گوانتاناموبے نہ بنائیں، 5 سال سے ایک شخص لاپتہ ہے اور ریاست کچھ نہیں کرسکی، لاپتہ افراد کا معاملہ سنجیدہ ہے ریاست کو ٹھوس اقدامات اٹھانا ہوں گے۔عدالت نے لاپتہ شخص کی والدہ کی مالی امداد سے متعلق جواب کیلئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی مہلت دینے کی استدعا منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…