جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

کووڈ ویکسینز ڈیلٹاوائرس کی منتقلی روکنے میں ناکام ہوسکتی ہیں تحقیق میں اہم انکشاف

datetime 7  اگست‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لندن(این این آئی )پبلک ہیلتھ انگلینڈ کے سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کووڈ ویکسین ڈیلٹا وائرس کی منتقلی روکنے میں ناکام ہو سکتی ہیں اور ویکسین لگوانے والے افراد میں ڈیلٹا وائرس اتنی ہی آسانی سے منتقل ہو سکتا ہے جتنا کہ ان لوگوں میں جن کو ویکسین نہیں لگی ہے۔خبر رساں ایجنسی کے مطابق

مذکورہ نتائج امریکی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن پروگرام کے نتائج سے ملتے ہیں جس نے پچھلے ہفتے ہی ان تحفظات کا اظہار کیا تھا کہ ویکسین لگوانے والے افراد کو ڈیلٹا دیگر ویریئنٹ کے مقابلے میں آسانی سے منتقل ہوجاتا ہے۔انتہائی تیزی کے ساتھ پھیلنے والا ڈیلٹا ویریئنٹ عالمی سطح پر غالب کورونا وائرس کی سب سے خطرناک قسم بن گیا ہے جہاں دنیا بھر میں کوقرونا وائرس سے ہلاک افراد کی تعداد 44 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ویکسین کو وائرس خصوصا ڈیلٹا ویریئنٹ کے سبب بیماری اور اموات سے تحفظ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے لیکن اس بارے میں تحقیق نہ ہونے کے برابر ہے کہ جن لوگوں کو ویکسین لگ چکی ہے، ان سے وائرس منتقل ہو سکتا ہے یا نہیں۔پبلک ہیلتھ انگلینڈ نے ایک بیان میں کہا کہ ابتدائی نتائج یہ ثابت کرتے ہیں کہ ویکسین لگوانے والے افراد کے ڈیلٹا کا شکار ہونے کی شرح ویکسین نہ لگوانے والے افراد کے برابر ہے۔اس حوالے سے مزید کہا گیا کہ اس وائرس کا شکار افراد کے شکار پر اثرات

مرتب ہو سکتے ہیں کہ انہوں نے ویکسین لگوائی ہے یا نہیں، تاہم یہ ابتدائی تحقیقاتی تجزیہ ہے اور اس بات کی تصدیق کے لیے مزید مطالعات کی ضرورت ہے۔پبلک ہیلتھ انگلینڈ نے کہا کہ 19 جولائی سے ہسپتال میں داخل ہونے والے تصدیق شدہ ڈیلٹا کیسز میں سے 55.1 فیصد کو ویکسین نہیں لگائی گئی تھی جبکہ 34.9 فیصد کو کووڈ-19 ویکسین کے دو ڈوز

لگ چکے تھے۔برطانیہ کی تقریبا 75 فیصد آبادی کو ویکسین کی دو خوراکیں لگ چکی ہیں اور پبلک ہیلتھ انگلینڈ نے کہا ہے کہ جیسے جیسے لوگوں کو ویکسین لگتی جائے گی، اس کے ساتھ ہی ہم ہسپتال میں ویکسین لگوانے والے افراد کی تعداد میں اضافے کا رجحان دیکھ سکتے ہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…