جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

کووڈ ویکسینز ڈیلٹاوائرس کی منتقلی روکنے میں ناکام ہوسکتی ہیں تحقیق میں اہم انکشاف

datetime 7  اگست‬‮  2021 |

لندن(این این آئی )پبلک ہیلتھ انگلینڈ کے سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کووڈ ویکسین ڈیلٹا وائرس کی منتقلی روکنے میں ناکام ہو سکتی ہیں اور ویکسین لگوانے والے افراد میں ڈیلٹا وائرس اتنی ہی آسانی سے منتقل ہو سکتا ہے جتنا کہ ان لوگوں میں جن کو ویکسین نہیں لگی ہے۔خبر رساں ایجنسی کے مطابق

مذکورہ نتائج امریکی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن پروگرام کے نتائج سے ملتے ہیں جس نے پچھلے ہفتے ہی ان تحفظات کا اظہار کیا تھا کہ ویکسین لگوانے والے افراد کو ڈیلٹا دیگر ویریئنٹ کے مقابلے میں آسانی سے منتقل ہوجاتا ہے۔انتہائی تیزی کے ساتھ پھیلنے والا ڈیلٹا ویریئنٹ عالمی سطح پر غالب کورونا وائرس کی سب سے خطرناک قسم بن گیا ہے جہاں دنیا بھر میں کوقرونا وائرس سے ہلاک افراد کی تعداد 44 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ویکسین کو وائرس خصوصا ڈیلٹا ویریئنٹ کے سبب بیماری اور اموات سے تحفظ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے لیکن اس بارے میں تحقیق نہ ہونے کے برابر ہے کہ جن لوگوں کو ویکسین لگ چکی ہے، ان سے وائرس منتقل ہو سکتا ہے یا نہیں۔پبلک ہیلتھ انگلینڈ نے ایک بیان میں کہا کہ ابتدائی نتائج یہ ثابت کرتے ہیں کہ ویکسین لگوانے والے افراد کے ڈیلٹا کا شکار ہونے کی شرح ویکسین نہ لگوانے والے افراد کے برابر ہے۔اس حوالے سے مزید کہا گیا کہ اس وائرس کا شکار افراد کے شکار پر اثرات

مرتب ہو سکتے ہیں کہ انہوں نے ویکسین لگوائی ہے یا نہیں، تاہم یہ ابتدائی تحقیقاتی تجزیہ ہے اور اس بات کی تصدیق کے لیے مزید مطالعات کی ضرورت ہے۔پبلک ہیلتھ انگلینڈ نے کہا کہ 19 جولائی سے ہسپتال میں داخل ہونے والے تصدیق شدہ ڈیلٹا کیسز میں سے 55.1 فیصد کو ویکسین نہیں لگائی گئی تھی جبکہ 34.9 فیصد کو کووڈ-19 ویکسین کے دو ڈوز

لگ چکے تھے۔برطانیہ کی تقریبا 75 فیصد آبادی کو ویکسین کی دو خوراکیں لگ چکی ہیں اور پبلک ہیلتھ انگلینڈ نے کہا ہے کہ جیسے جیسے لوگوں کو ویکسین لگتی جائے گی، اس کے ساتھ ہی ہم ہسپتال میں ویکسین لگوانے والے افراد کی تعداد میں اضافے کا رجحان دیکھ سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…