جمعہ‬‮ ، 10 اپریل‬‮ 2026 

ہم ہرگز یہ قبول نہیں کریں گے،قبائلیوں کے زخم کئی نسلوں تک نہیں بھر سکیں گے،عمران خان کو کس ایجنڈے کے تحت ہم پر مسلط کیا گیا؟ فضل الرحمان کا انٹرویو میں انکشاف

datetime 2  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)جے یو آئی (ف) اور متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہاہے کہ نیشنل ایکشن پلان دراصل دینی مدارس اور دینی جماعتوں کے خلاف بنائے گئے امتیازی قوانین ہیں،ہم ہرگز نہیں قبول کریں گے،پاکستان میں کسی بھی قسم کی جنگ کو جائز نہیں سمجھتے،قبائلیوں کے زخم کئی نسلوں تک نہیں بھر سکیں گے،عمران خان کو بین الاقوامی ایجنڈے کے تحت ہم پر مسلط کیا گیا ہے،موجودہ حکومت ختم ہوگی تو ملک کی معیشت بہتر ہوگی،سیاسی جماعتوں کے

جلسوں کو ٹی وی پر نشر تک نہیں کیا جاسکتا، رائے عامہ کی آواز کو دبایا جا رہا ہے، حقائق کو تسلیم کیا جائے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مولا نا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم قانون اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اقدامات کر رہے ہیں، ہم نے جتنی تحاریک چلائیں ان میں کوئی بھی غیر قانونی اقدام نہیں کیا گیا، تمام مکاتب فکر کے علماء نے بھی کہا ہے کہ ہم پاکستان میں کوئی جنگ نہیں چاہتے۔انہوں نے کہا کہ آج ایک بھی قبائلی پاکستان کے نظام سے مطمئن نہیں، ہم پاکستان میں کسی بھی قسم کی جنگ کو جائز نہیں سمجھتے،قبائلیوں کے زخم کئی نسلوں تک نہیں بھر سکیں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کئی ایک سو سے بھی کم مدارس کو مبہم رکھتے ہوئے 30ہزار سے زائد مدارس کو مشکوک بنانا درست نہیں، وزارت تعلیم کے پاس صلاحیت ہی نہیں کہ وہ دینی مدارس چلا سکیں،نیشنل ایکشن پلان دراصل دینی مدارس اور دینی جماعتوں کے خلاف بنائے گئے امتیازی قوانین ہیں جسے ہم ہرگز نہیں قبول کریں گے، ہم اس کیلئے سڑکوں پر ہیں، اگر ہمارے بغیر فیصلے ہوئے تو انہیں ہرگز نہیں مانیں گے، موجودہ پیدا ہونے والی صورتحال کو نہ تو قبول کرسکتے ہیں اور نہ ہی برداشت کر سکتے ہیں۔ سربراہ جے یوآئی (ف) نے کہا کہ عام انتخابات میں تاریخ کی بدترین دھاندلی کی گئی،اپنی پسند کے لوگ سامنے لائے گئے، آج حکومت میں شامل جماعتیں بھی کہہ رہی ہیں کہ دھاندلی ہوئی ہے، یہ دھاندلی کے تحت بننے والی حکومت نااہل ہے،اس کی نااہلی کی وجہ سے

ہی معیشت تباہ ہوئی۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کو بین الاقوامی ایجنڈے کے تحت ہم پر مسلط کیا گیا ہے، عالمی مارکیٹ میں ہمارے ملک کی کوئی حیثیت نہیں، معیشت کے حوالے سے غیر ملکی اداروں کی رپورٹس بھی مایوس کن ہیں، جو ٹھیک نہ ہوسکے اسے مٹ جانا چاہیے،یہ حکومت ختم ہوگی تو ملک کی معیشت بہتر ہوگی، اس نااہل حکومت کے خاتمے کے بعد دوبارہ الیکشن کرایا جائے، اس کیلئے تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں لیکن کوئی حرکت

میں نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب پورے ملک سے کرپشن کے خاتمے کیلئے بنایا گیا ادارہ ہے لیکن اس کا استعمال صرف سیاستدانوں پر ہو رہا ہے باقیوں سے سودے بازی کی جا رہی ہے،ا س حکومت کی ناکامی کی مکمل ذمہ داری اسٹیبلشمنٹ پر ہے۔انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتوں کے جلسوں کو ٹی وی پر نشر تک نہیں کیا جاسکتا، رائے عامہ کی آواز کو دبایا جا رہا ہے، حقائق کو تسلیم کیا جائے، اگر نہیں کریں گے تو تباہ ریاست ہی ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…