ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف مہم یا معاملہ کچھ اور ؟ فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ آنے کے اڑھائی ماہ بعدنئے تنازع نے جنم لے لیا

datetime 23  اپریل‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف مہم یا معاملہ کچھ اور ؟فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ آئےاڑھائی ماہ گزر گئے لیکن تنازع برقرار ہے ،سندھ اور پنجاب کے وکلا بھی آمنے سامنے آگئے ،تفصیلات کے مطابق پنجاب بار کونسل نے فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے پر جسٹس قاضی فائز عیسی ٰکے خلاف قرارداد منظور کی ہے۔

ان پر قانون کے اصولوں کو نظر انداز کرنے اور افواج پاکستان اور ریاستی اداروں کی تضحیک کے الزامات عائد کئے گئےہیں۔ جبکہ دوسری جانب سندھ کی مختلف بار ایسوسی ایشنز نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے حق میں قرار داد منظور کر لی۔ سندھ بارکونسل، ہائیکورٹ بار، کراچی اور ملیر بار نے پنجاب بار کی قرار داد کی مذمت کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے حق میں قرار داد منظورکی۔مشترکہ قرار داد کے متن کے مطابق اندازہ ہوتا ہے کہ کچھ نادیدہ قوتیں عدلیہ کو دباؤ میں لانا چاہتی ہیں۔ پنجاب بار کٹھ پتلیوں کی بھی کٹھ پتلی کا کردار ادا کررہی ہے۔ سندھ کی تمام وکلا برادری کراچی بار کے اصولی موقف کے ساتھ کھڑی ہے۔کراچی بار نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ انتہائی اچھی ساکھ کے مالک جج ہیں اور انہیں کوئٹہ کمیشن کی وجہ سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔واضح رہے کہ بعد میں پنجاب بار کی جانب سے ایک وضاحتی بیان سامنے آیا ہے  جس میں کہا گیا کہ ایگزیکٹو کمیٹی کا پنجاب بار سے کوئی تعلق نہیں ،ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کی ذیلی کمیٹی ہے ،جو قرارداد پیش کی گئی ہے وہ اس کا اپنا نقطہ نظر ہو سکتا ہے ،پنجاب بار نے ایسی کوئی قرارداد پیش نہیں کی ۔یاد رہے کہ اس سے پہلے تحریک انصاف کی جانب سے فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے کیخلاف دو نظر ثانی درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…