منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

صبا قمر اور عثمان مختار کے ڈرامے میں بولڈ مناظر نے سوشل میڈیا پر طوفان کھڑا کردیا

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2025 |

لاہور (این این آئی)اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بے غیرتی اور بے حیائی کی کھلی چھوٹ کوئی پوچھنے والا نہیں نہ ہی خود کوئی شرم وغیرت ہے،بس موجیں ہی موجیں ـصبا قمر اور عثمان مختار کے ڈرامے پامال کی حالیہ قسط میں دکھائے گئے بولڈ مناظر نے سوشل میڈیا پر طوفان کھڑا کردیا۔ڈرامہ پامال زنجبیل عاصم شاہ کی تحریر اور خضر ادریس کی ہدایت کاری میں بنایا گیا ہے، جبکہ اس کی پروڈیوسر تحریم چوہدری ہیں۔کہانی ایک مصنفہ ملکہ(صبا قمر)کے گرد گھومتی ہے، جس نے شادی سے پہلے اور بعد دونوں ادوار میں مشکلات بھری زندگی گزاری ہے۔

اب تک پامال کی 12 اقساط نشر ہو چکی ہیں۔ تازہ قسط میں رضا (عثمان مختار)اور ملکہ(صبا قمر)کے درمیان اسپتال میں ملاقات کا منظر دکھایا گیا، جہاں ملکہ اپنے شوہر کو دیکھ کر جذباتی انداز میں انہیں گلے لگاتی ہے۔ یہ منظر بغیر سینسر کیے نشر کیا گیا جس پر ناظرین کی بڑی تعداد نے سوشل میڈیا پر سخت ردِعمل دیا۔ایک صارف نے لکھا،کوئی تو صبا قمر کی شادی کروا دے۔ایک اور صارف نے تنقید کی ڈائریکٹر کو شرم آنی چاہیے، یہ پاکستانی ڈرامہ ہے یا بھارتی شو؟کئی صارفین نے شکایت کی کہ اب ڈراموں میں غیر ضروری بولڈ مناظر دکھائے جا رہے ہیں۔ ایک نے کہا،کیا اب ہم یہ ڈرامے فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھ بھی سکتے ہیں یا نہیں؟ایک اور صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا،شکر ہے میرے والد اس وقت ساتھ نہیں بیٹھے تھے، ورنہ یہ منظر دیکھنا بہت مشکل تھا۔بعض نے عثمان مختار پر بھی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ان سے یہ توقع نہیں تھی۔

صبا قمر کے بارے میں ایک صارف نے لکھا،صبا قمر کو ہمیشہ بولڈ کرداروں میں ہی دیکھا ہے، لگتا ہے وہ بھول جاتی ہیں کہ یہ پاکستانی ڈرامہ ہے، کوئی بالی ووڈ فلم نہیں۔ڈرامہ پامال اپنی کہانی اور کرداروں کی گہرائی کے باعث مقبول ہو رہا ہے، تاہم حالیہ تنازع نے اداکاری میں حدود و قیود پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…