جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

’’وطن عزیز کیلئے میرے سو بیٹے بھی ہوتے توقربان کردیتی‘‘ رینجرز کے شہید ڈی ایس آر حنیف شہید کی والدہ سابقہ ایم پی اے سکینہ شاہین کا تقریب سے ایسا خطاب کہ ہر پاکستانی ماں ان پر فخر محسوس کریگی

datetime 7  ستمبر‬‮  2018 |

کراچی (نیوز ڈیسک)رینجرڈی ایس آر حنیف شہید کی والدہ سابقہ ایم پی اے سکینہ شاہین خان نے کراچی میں رینجرز ہیڈکوآرٹر میں یوم شہدا کے حوالے منعقدہ تقریب میں شرکت کے بعد ڈی جی رینجرمیجر جنرل محمد سعید اور سندھ پولیس کے اعلیٰ افسران سے ملاقات کی۔انہوںنے ملک بھر سے آئے ہوئے شہیدوں کے خاندانوں سے بھی ملاقات کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ وطن عزیز کی بقااور

سلامتی کے لیے میرے اگر سو بیٹے بھی ہوتے تو قربان کردیتی ، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ رینجرز اور پولیس نے اپنی جانوں کی قربانیاں دیکر کراچی میں امن قائم کیاہے ،رینجرز اور پولیس کے تمام افسران بھی اس سلسلے میں مبارک باد کے مستحق ہیں کیونکہ انہوںنے جواں مردی کے ساتھ کراچی کو ایک بڑی دہشت گردی اور تباہی سے بچانے کے لیے اپنا کلیدی کردارادکیاہے ،انہوںنے کہاکہ کچھ سال قبل کراچی میں درندگی کی وہ فضاء قائم تھی کہ یہاں کے دو کروڑ سے زائد کے شہریوں کا جینا محال ہوچکاتھا ،کراچی آگ اور خون کا دریا بنا ہواتھا،جس پر کاروبارزندگی بھی ختم ہوکر رہ گیا تھاکیونکہ یہاں ہر طرف بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز کا راج قائم تھا مگر جس انداز میں ہمارے سیکورٹی اداروں نے اپنی جان کی بازی لگاکر اس شہر کا امن لوٹایا ہے وہ قابل تحسین ہے ،انہوں نے کہاکہ ہم کراچی کا امن بحال کرنے والے ریاستی اداروںرینجرز اور پولیس کے شہدا ئوں کو دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کرتے ہیں اور اس عز م کااظہار کرتے ہیں کہ ہم کسی بھی حالت میں ان کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے ۔انہوںنے مزید کہا کہ رینجرز کی قابل ستائش اور ناقابل یقین کارکردگی نے آج کراچی کا امن پھر سے لوٹادیا ہے کراچی ایک بار پھر سے روشنیوں کا شہر بننے جارہاہے جس کے لیے ہم اپنی فوج اور تمام سیکورٹی اداروں کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…