جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

میاں عامر صاحب آج رات میرے خلاف ٹی وی پر پروگرام کروا لینا، چیف جسٹس کا دنیا نیوز کے مالک سے دلچسپ مکالمہ

datetime 16  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان میں میڈیا ریٹنگ کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار اور نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مالک میاں عامر محمود کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا، سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ

میاں صاحب کل میرے خلاف پروگرام کر لینا، جس پر میاں عامر محمود نے جواب دیا کہ میں پروگرام نہیں کرواؤں گا، چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ میں کھلی عدالت میں کہہ رہا ہوں کہ آپ پروگرام کر لینا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ جتنی گالیاں دیتے ہیں اتنی ریٹنگ زیادہ ہوتی ہے، ہم اجارہ داری ختم کریں گے، تمام براڈ کاسٹرز ملے ہوئے ہیں۔ اس موقع پر جسٹس عمر عطا کا کہنا تھا کہ پی بی اور میڈیا لاجک کے درمیان معاہدہ پیش کریں۔ عدالت نے ٹی وی چینلز کے پروگرامز کو ریٹنگ دینے والی کمپنی میڈیا لاجک کے مالک سلمان دانش پر توہین عدالت کیس میں فرد جرم عائد کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ آئندہ سماعت تک موخر کر دیا ہے سلمان دانش نے عدالت میں پیش ہو کر غیر مشروط طور پر معافی بھی مانگی۔ سلمان دانش نے کہا کہ ہم ایمانداری کیساتھ اپنا کام کررہے ہیں،جس پر چیف جسٹس نے جواب دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ایمانداری عمل سے ظاہر ہوتی ہے، پیسے لے کر ریٹنگ دی جاتی ہے، عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی گئی۔میڈیا لاجک کے مالک نے کہا کہ ہم بول کو ریٹنگ دے رہے ہیں، میں نے غیر مشروط معافی مانگی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…