جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

بہن نے بھائی کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے سکول میں طالب علموں کے لیے بنائے گئے کھانے میں زہر ملا دیا، حیرت انگیز انکشافات

datetime 19  جولائی  2018 |

گورکھ پور(نیوز ڈیسک)بھارتی ریاست ہریانہ میں بہن نے اپنے بھائی کے قتل کا بدلہ لینے کے لئے اسکول کے کھانے میں زہر ملا دیا، مبینہ طور پر زہر ملی غذا کھانے کے لیے پیش ہی نہیں کی گئی جس کے سبب کوئی بڑا حادثہ رونما نہیں ہو سکا۔ معروف بھارتی اخبار دی ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی ریاست ہریانہ کے ایک ضلع گورکھ پور میں 7ویں جماعت کی طالبہ نے اپنے بھائی کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے

اسکول میں طالبِ علموں کے لیے بنائے گئے کھانے میں زہر ملادیا۔ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسکول کے باورچی نے متعلقہ پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد اسکول میں افراتفری پھیل گئی۔پولیس اور صحت و منشیات کی انتظامیہ کے حکام نے فوری طور پر اسکول کا دورہ کیا اور کھانے کا معائنہ کیا، تاہم کسی بھی طالبِ علم کی حالت خراب ہونے کے شواہد نہیں ملے۔اس کے علاوہ مقامی ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے بھی اسکول کا دورہ کیا جہاں یہ بات سامنے آئی کہ مبینہ طور پر زہر ملی غذا کھانے کے لیے پیش ہی نہیں کی گئی۔پولیس کے مطابق طالبہ اور اس کی والدہ سے تفتیش کی گئی تاہم اس نے الزام مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس نے کھانے میں کوئی چیز نہیں ملائی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس، صحت و منشیات کی انتظامیہ کی رپورٹ کا انتظار کر رہی ہے جس کی بنیاد پر اگر ضروری ہوا تو لڑکی کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔رواں برس اپریل میں اسی اسکول میں ایک حادثہ پیش آیا تھا جس میں مذکورہ طالبہ کے بھائی کو 5ویں جماعت کے ایک طالبِ علم نے سر پر اینٹ ماردی تھی جس کی وجہ سے وہ ہلاک ہوگیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…