اتوار‬‮ ، 17 مئی‬‮‬‮ 2026 

’اونچی ایڑی کا جوتا نہ پہننے والی خواتین کو واپس بھیج دیا’

datetime 19  مئی‬‮  2015 |

پیرس (نیوزڈیسک )فرانس میں منقعد ہونے والے کین فلمی میلے کی انتظامیہ پر اس بات کے لیے تنقید ہو رہی ہے کہ انھوں نے مبینہ طور پر ایک فلم کی نمائش کے لیے آنے والی ان خواتین کو واپس بھیج دیا جنھوں نے اونچی ایڑی کا جوتا نہیں پہنا تھا۔یہ خواتین اداکارہ کیٹ بلانچٹ کی نئی فلم ’ کیرل‘ کے پریمئیر کے لیے آئی تھیں اور ان میں بعض ایسی خواتین تھیں جو عمر رسیدہ یا بیمار تھیں۔’سکرین ڈیلی‘ اخبار کا کہنا ہے کہ میلے کی انتظامیہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ریڈ کارپٹ پر خواتین کے لیے اونچی ایڑی کا جوتا پہننا لازمی ہے۔تاہم فیسٹیول کے ڈائریکٹر تھیئری فریموکس نے کہا ہے کہ یہ افواہیں من گھڑت ہیں۔انھوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا کہ ’کین فیسٹیول میں ریڈ کارپٹ سے متعلق اصول تبدیل نہیں ہوئے اور وہاں تمباکو نوشی ممنوع ہے اور سب کو رسمی لباس پہننا لازمی ہے، تاہم اس میں اونچی ایڑی کے جوتے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔‘فیسٹیول کی ویب سائٹ پر ملبوسات سے متعلق ایک بیان میں بھی یہی کہا گیا ہے کہ مردوں کو ’ کالی ٹائی اور خواتین کے لیے رسمی لباس پہننا لازمی ہے۔‘ ویب سائٹ پر بھی اونچی ایڑی کے جوتے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔سکرین ڈیلی نے سب سے پہلے یہ خبر شائع کی تھی۔ اخبار کو کین فلمی میلے میں ہر برس حصہ لینے والے ایک شخص نے بتایا تھا کہ ایک فلم کی نمائش کے دوران سیدھے جوتے پہننے خواتین کو اندر داخل نہیں ہونے دیا گیا تھا۔اپنی شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اس شخص نے بتایا: ’میری جان پہچان کی بعض خواتین کو اس لیے واپس بھیج دیا گیا کیونکہ انھوں نے بغیر ایڑی کا جوتا پہنا ہوا تھا، انھوں نے خوبصورت سیدھے جوتے پہنے ہوئے تھے نہ کہ ساحلِ سمندر پر پہننے والے جوتے۔۔۔ ان خواتین کی عمر 50 برس کے قریب ہوگی۔ خواتین نے مجھے بتایا کہ انھوں نے جا کر ایڑی والے جوتے خریدے اور پھر واپس آ گئیں۔‘فلم ہدایت کار آصف کپاڈیا کی دستاویزی فلم گذشتہ ہفتے کے آخر میں میلے میں دکھائی گئی تھی۔ انھوں نے ٹوئٹر پر کہا کہ ان کی اہلیہ کو بھی اونچی ایڑی کا جوتا نہ پہننے پر روکنے کی کوشش کی گئی لیکن آخر میں ان کو اندر جانے دیا گیا۔اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد لوگوں نے ٹوئٹر پرغم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ برطانوی ادیب کیٹلن موران نے کہا کہ ’اس طرح کی رپورٹیں موصول ہورہی ہیں کہ اونچی ایڑی کا جوتا نہ پہننے والی عام خواتین اور معذور خواتین کو بھی فلم کی دیکھنے کے لیے اندر نہیں جانے دیا جا رہا ہے۔ یہ عجیب بات ہے۔‘بزفیڈ ویب سائٹ سے منسلک فلم ناقد ایلیسن ولمور نے بتایا کہ فلم اداکارہ ایملی بلنٹ سے ایک پریس کانفرنس میں اس سے متعلق سوال پوچھا گیا تو انھوں نے کہا: ’میرے خیال ہر ایک عورت کو بغیر ایڑی کا جوتا پہننا چاہیے۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئی سٹل لو یو


یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…