ہفتہ‬‮ ، 28 فروری‬‮ 2026 

مصنوعی ذہانت انسانوں کی جگہ لے سکتی ہے، اے آئی گاڈ فادر جیفری ہنٹن

datetime 19  جون‬‮  2025 |

نیویارک(این این آئی)مصنوعی ذہانت کے گاڈ فادر کے نام سے مشہور معروف کمپیوٹر سائنس دان جیفری ہنٹن نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی اتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے کہ 10 سے 20 فیصد امکانات ہیں کہ یہ مستقبل میں انسانوں کی جگہ قابض ہوسکتی ہے۔ میڈیارپورٹس کے م طابق انہوں نے اس شعبے کے خطرات پر سنجیدگی سے توجہ نہ دیے جانے پر گہری تشویش کا اظہار بھی کیا۔ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت دو طرح کے خطرات رکھتی ہے، میں اکثر کہتا ہوں کہ 10 سے 20 فیصد امکان ہے کہ اے آئی ہمیں ختم کر دے، یہ میری دل کی بات ہے جو اس خیال پر مبنی ہے کہ ہم ابھی بھی ان مشینوں کو بنا رہے ہیں اور ہم کافی ذہین ہیں، امید ہے کہ اگر کافی ذہین لوگ تحقیق کریں تو ہم کوئی ایسا طریقہ ڈھونڈ لیں گے جس سے اے آئی ہمیں نقصان نہ پہنچائے۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سے جھوٹی اور غلط معلومات پیدا ہو رہی ہیں، جعلی ویڈیوز، تصاویر اور آڈیوز آسانی سے بنائی جا سکتی ہیں، اس کا استعمال کر کے اسکیمز اور دھوکا دہی کی وارداتیں بڑھ رہی ہیں، جیسے کسی شخص کی ویڈیو میں آواز اور لب و لہجہ بدل کر فریب دینا۔ہنٹن کے مطابق ہم ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں، دنیا کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، جس میں اے آئی پر مزید تحقیق، حکومتوں کی طرف سے ضوابط، اے آئی سے لیس فوجی روبوٹس پر عالمی پابندی شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…