امریکی طالبعلم نے انٹرن شپ کے محض تیسرے دن نیا سیارہ تلاش کرلیا، پوری دنیا حیران ،ناسا نے بھی تصدیق کردی

  جمعرات‬‮ 16 جنوری‬‮ 2020  |  16:26

نیویارک(این این آئی) امریکی خلائی تحقیقی ادارے ناسا میں 2 ماہ کی انٹرن شپ کرنے والے 17 سالہ طالب علم نے اپنی انٹرن شپ کے محض تیسرے دن نیا کارنامہ سر انجام دیکر سب کو حیرت زدہ کردیا،امریکا کے 17 سالہ طالب علم وولف کویئر نے ایک خلائی سیٹلائٹ کے ڈیٹا کے تجزیے کے دوران زمین سے دور ایک نئے سیارے کو دریافت کرلیا۔ طالب علم وولف کویئر نے زمین سے 13 ہزار نوری سال کی دوری پر ایک ایسا سیارہ دریافت کیا جو ہماری زمین سے تقریبا 7 گنا بڑا ہے اور وہاں ایک نہیں بلکہ 2 سورج ہیں۔تاہم طالب


علم کی جانب سے تلاش کیے گئے سیارے پر ابتدائی طور پر ناسا کو شق ہوا اس لیے امریکی خلائی ادارے نے اس پر مزید تحقیق کی اور اب ناسا نے تصدیق کی ہے کہ طالب علم درست تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق ناسا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وولف کویئر نامی طالب علم گزشتہ برس گرمیوں میں ان کے ہاں انٹرن شپ کرنے آیا تھا جسے واشنگٹن ڈی سی کے قریب واقع گوڈارڈ اسپیس فلائٹ سینٹر میں رکھا گیا تھا۔انٹرن شپ شروع ہونے کے تیسرے دن ہی طالب علم نے خلا میں بھجوائی گئی سیٹلائٹ کے ڈیٹا کا جائزہ لیتے ہوئے سیارے کو ڈھونڈ نکالا تھا تاہم ابتدائی طور پر طالب علم کی بات کی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔ناسا کے مطابق وولف کویئر نے جس سیارے کو تلاش کیا ہے اس کا زمین سے مشاہدہ کرنا مشکل ہے اور وہ ہمارے نظام سے تقریبا 13 ہزار نوری سال کی دوری پر واقع ہے۔نئے دریافت ہونے والے سیارے میں زمین نظام کے برعکس 2 سورج ہیں اور مذکورہ سیارہ دونوں سورج کے گرد 93 اور 95 دنوں اپنا چکر مکمل کرتا ہے۔ناسا نے اعتراف کیا کہ انٹرنی کی جانب سے دریافت کیے جانے والے نئے سیارے پر جب مزید تحقیق کی گئی تو اس بات کی تصدیق ہوئی کہ وہ زمینی سورج نہیں بلکہ ایک نیا سیارہ ہے جہاں پر 2 سورج موجود ہیں۔ ناسا کے مطابق دریافت ہونے والے سیارے کی موجودگی کا انکشاف خلا میں بھیجے گئے اس سیٹلائٹ سسٹم کے ڈیٹا سے ہوا۔ وولف کویئر نے بتایا کہ انہیں جس سینٹر میں انٹرن شپ کے لیے رکھا گیا تھا وہاں انہیں ایک سیٹلائٹ کے ڈیٹا جائزہ لینے کا کام سونپا گیا۔انہوں نے بتایا کہ انٹرن شپ کے دو دن مکمل ہوتے ہی تیسرے دن کے آغاز میں انہوں نے ڈیٹا کا جائزہ لیتے وقت سیٹلائٹ کی جانب سے منفرد سگنل ملنے کے بعد سیارہ تلاش کیا۔طالب علم نے جس خلائی سیٹلائٹ کا ڈیٹا کا جائزہ لیا ،ناسا نے اسے 2 سال قبل ہی خلا میں بھیجا تھا تاکہ زمین سے باہر موجود سیاروں کی نشاندہی کی جا سکے۔

موضوعات: