ہفتہ‬‮ ، 10 جنوری‬‮ 2026 

ایس ایم ایس کی آج 26 ویں سالگرہ ہے

datetime 3  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) کیا آپ اسمارٹ فون کی آمد سے پہلے کے موبائل صارف ہیں اگر ہاں تو آپ ایس ایم ایس کی افادیت کے ضرور قائل ہوں گے، اس حیرت انگیز ایجاد کو آج 26 سال مکمل ہوگئے ہیں لیکن ابھی بھی اس کی افادیت قائم ہے۔ دنیا بھر میں رابطے کے انداز کو بدل دینے والی اسپیڈ میسجنگ سروس (ایس ایم ایس )کا آغاز آج سے ٹھیک 25 سال پہلےیعنی 3 دسمبر 1992ء کو ہوا تھا۔

دنیا کا سب سے پہلا ایس ایم ایس نیل پاپورتھ (Neil Papworth) نامی 22 سالہ انجینئر نے اپنے پرسنل کمپیوٹر سے ووڈافون نیٹ ورک کے ذریعے کمپنی کے ڈائریکٹررچرڈ جاروس (Richard Jarvis) کو بھیجا تھا اور اس میں Merry Christmas لکھا گیا تھا۔ نیل پاپورتھ نے یہ میسج کمپیوٹر کے ذریعے ٹائپ کرکے ارسال کیا تھا کیونکہ اس وقت تک ٹیلی فون میں کی بورڈ کی سہولت نہیں تھی جبکہ نیل پاپورتھ کو اپنے اوربیٹل 901 ہنڈ سیٹ پر یہ پیغام موصول ہوا تھا، مگر اس وقت جوابی میسج نہیں بھیجا جاسکا تھا کیونکہ اس دور میں فون سے ٹیکسٹ بھیجنے کا کوئی طریقہ موجود ہی نہیں تھا۔ اگرچہ پاپورتھ کو پہلا ایس ایم ایس بھیجنے کا اعزاز حاصل ہے مگر اس کا خیال 1984 میں میٹی میککونین نے ایک ٹیلی کمیونیکشن کانفرنس کے دوران پیش کیا تھا۔ سب سے پہلے تو اس فیچر کو جی ایس ایم اسٹینڈرڈ کا حصہ بنایا گیا اور صحیح معنوں میں یہ سروس 1994 میں اس وقت متعارف ہوئی جب نوکیا نے اپنا موبائل فون 2010 فروخت کے لیے پیش کیا جس میں آسانی سے پیغام تحریر کرنا ممکن تھا۔ایس ایم ایس پوسٹ کارڈ وغیرہ پر پیغامات لکھنے کے لیے 160 حروف یا اس سے بھی کمی جگہ ہوتی تھی اسے باعث ایس ایم ایس کے لیے بھی 160 حروف کی حد مقرر کی گئی تھی۔ سنہ 1996ء میں جرمنی میں 10 ملین ایس ایم ایس بھیجے گئے تھے۔ 2012ء میں، ان کی تعداد 59 ارب تک پہنچ گئی۔ا سمارٹ فون آنے کے بعد ایس ایم ایس نے کی مقبولیت میں کمی ہونے لگی۔ ٹویٹر، فیس بک، زوم، واٹس ایپ جیسے مفت پیغامات بھیجنے والی ایپلیکیشنز زیادہ سے زیادہ مقبول ہو رہی ہیں، مگر اس سب کے باجود ایس ایم ایس کا وجود اب بھی قائم ہے اور یہ ساری سروسز بھی ایس ایم ایس کی ہی ترقی یافتہ شکلیں ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…