ہفتہ‬‮ ، 13 جون‬‮ 2026 

ایس ایم ایس کی آج 26 ویں سالگرہ ہے

datetime 3  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) کیا آپ اسمارٹ فون کی آمد سے پہلے کے موبائل صارف ہیں اگر ہاں تو آپ ایس ایم ایس کی افادیت کے ضرور قائل ہوں گے، اس حیرت انگیز ایجاد کو آج 26 سال مکمل ہوگئے ہیں لیکن ابھی بھی اس کی افادیت قائم ہے۔ دنیا بھر میں رابطے کے انداز کو بدل دینے والی اسپیڈ میسجنگ سروس (ایس ایم ایس )کا آغاز آج سے ٹھیک 25 سال پہلےیعنی 3 دسمبر 1992ء کو ہوا تھا۔

دنیا کا سب سے پہلا ایس ایم ایس نیل پاپورتھ (Neil Papworth) نامی 22 سالہ انجینئر نے اپنے پرسنل کمپیوٹر سے ووڈافون نیٹ ورک کے ذریعے کمپنی کے ڈائریکٹررچرڈ جاروس (Richard Jarvis) کو بھیجا تھا اور اس میں Merry Christmas لکھا گیا تھا۔ نیل پاپورتھ نے یہ میسج کمپیوٹر کے ذریعے ٹائپ کرکے ارسال کیا تھا کیونکہ اس وقت تک ٹیلی فون میں کی بورڈ کی سہولت نہیں تھی جبکہ نیل پاپورتھ کو اپنے اوربیٹل 901 ہنڈ سیٹ پر یہ پیغام موصول ہوا تھا، مگر اس وقت جوابی میسج نہیں بھیجا جاسکا تھا کیونکہ اس دور میں فون سے ٹیکسٹ بھیجنے کا کوئی طریقہ موجود ہی نہیں تھا۔ اگرچہ پاپورتھ کو پہلا ایس ایم ایس بھیجنے کا اعزاز حاصل ہے مگر اس کا خیال 1984 میں میٹی میککونین نے ایک ٹیلی کمیونیکشن کانفرنس کے دوران پیش کیا تھا۔ سب سے پہلے تو اس فیچر کو جی ایس ایم اسٹینڈرڈ کا حصہ بنایا گیا اور صحیح معنوں میں یہ سروس 1994 میں اس وقت متعارف ہوئی جب نوکیا نے اپنا موبائل فون 2010 فروخت کے لیے پیش کیا جس میں آسانی سے پیغام تحریر کرنا ممکن تھا۔ایس ایم ایس پوسٹ کارڈ وغیرہ پر پیغامات لکھنے کے لیے 160 حروف یا اس سے بھی کمی جگہ ہوتی تھی اسے باعث ایس ایم ایس کے لیے بھی 160 حروف کی حد مقرر کی گئی تھی۔ سنہ 1996ء میں جرمنی میں 10 ملین ایس ایم ایس بھیجے گئے تھے۔ 2012ء میں، ان کی تعداد 59 ارب تک پہنچ گئی۔ا سمارٹ فون آنے کے بعد ایس ایم ایس نے کی مقبولیت میں کمی ہونے لگی۔ ٹویٹر، فیس بک، زوم، واٹس ایپ جیسے مفت پیغامات بھیجنے والی ایپلیکیشنز زیادہ سے زیادہ مقبول ہو رہی ہیں، مگر اس سب کے باجود ایس ایم ایس کا وجود اب بھی قائم ہے اور یہ ساری سروسز بھی ایس ایم ایس کی ہی ترقی یافتہ شکلیں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…