سان فرانسسکو (نیوز ڈیسک)اخبار ”گارڈین“ کے صحافی جیمز بال کے ایک مضمون میں انکشاف کیا گیا ہے کہ انٹرنیٹ کو بھی کسی عام اثاثے کی طرح چابیوں سے محفوظ بنایا گیا ہے اور اس کا کنٹرول انہی ہاتھوں میں ہے جن میں اس کی چابیاں ہیں۔ دراصل ان کی ملکیت ایک ادارے کے پاس ہے جس کا نام ”انٹرنیٹ کارپوریشن فار اسائنڈ نیمز (ICANN) “ ہے اور ادارے نے انٹرنیٹ کی سات چابیاں سات مختلف افراد کے حوالے کر رکھی ہیں۔مزید سات افراد ان کے بیک اپ کے طور پر متعین کئے گئے ہیں اور یوں دنیا میں صرف 14 لوگ ایسے ہیں جن کے ہاتھ میں اربوں لوگوں کے زیر استعمال انٹرنیٹ ہے۔ اس ادارے کے ذمہ ویب سائٹوں کے ہندسی ایڈریس کو لفظی ایڈریس سے منسلک کرکے محفوظ ترین کمپیوٹروں پر حفاظت سے رکھنا ہے۔ دنیا بھر کی ویب سائٹوں کے ایڈریس سات مختلف جگہوں پر محفوظ کئے گئے ہیں اور ہر جگہ کی چابی ایک منتخب فرد کے پاس ہے۔یہ افراد ہر سال ایک انتہائی خفیہ مقام پر ملاقات کرکے پاس ورڈ تبدیل کرتے ہیں اور پھر ساتوں کمپیوٹروں کےلئے سال بھر نئے پاس ورڈ استعمال ہوتے ہیں۔ خصوصی مقام پر کئی تالوں کے اندر رکھے گئے کمپیوٹروں کو خفیہ چابیوں کے بغیر کھولنا ممکن نہیں۔ انٹرنیٹ کو چابیوں کے ساتھ محفوظ بنانے کا عمل 2010ءسے جاری ہے۔
کیا آپ کو معلوم ہے انٹر نیٹ کی 7 چا بیا ں کن 14 لو گو ں کے پاس ہے؟
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ایران نے جنگ کا نیا مرحلہ شروع کردیا
-
ترک خواتین نے مسجد فاتح میں دوپٹے مردوں پر پھینک دیئے،ویڈیووائرل
-
امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی تھریٹ رپورٹ میں پاکستان، بھارت اور افغانستان کا خصوصی ذکر
-
عید الفطر کیلیے گیس کی فراہمی کا شیڈول جاری
-
خلیجی ممالک پر حملے، شہزادہ فیصل نے بڑا اعلان کر دیا
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کی بڑی مشکل آسان ہوگئی
-
سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی
-
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کا نوٹیفکیشن جاری
-
امریکی ڈائریکٹر قومی انٹیلی جنس کا پاکستان کے میزائل پروگرام سے متعلق بیان مسترد
-
حکومت نے بجلی کے بلوں میں اضافی فکسڈ چارجز شامل کر دیئے
-
راولپنڈی،شادی شدہ خاتون سے زیادتی کرنے والے 4 افراد گرفتار
-
گیس تنصیبات پر حملہ، قطر کا بڑا سفارتی فیصلہ
-
لاہور، شہری نے فائرنگ کرکے بیوی، بیٹی اور بیٹے کو ہلاک کرکے خودکشی کرلی
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم رکھیں گے تو لوگ اپنا لائف اسٹائل تبدیل نہیں کریں گے، وزیر پیٹرولیم



















































