جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

سلمنگ ڈیوائس متعارف کروانے پربرطانیہ میں واویلا

datetime 26  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک ) کھانے پینے کے شوقین برطانوی عوام کیلئے خوشخبری ہے کہ موٹاپے سے بچانے والی سلمنگ ڈیوائس ملک میں عنقریب فروخت کیلئے پیش کی جائے گی۔ اس ڈیوائس کی موجودگی میں کھانے پینے سے وزن پر کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کیونکہ یہ ڈیوائس معدے میں موجود خوراک کو جسم سے باہر کھینچ لیتی ہے اور یوں وزن بڑھنے نہیں پاتا ہے۔ اسپائر اسسٹ نامی یہ ڈیوائس امریکہ میں پہلے سے ہی فروخت کیلئے دوکانوں پر دستیاب ہے اور امریکیوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اس کی مدد سے 45کلو تک وزن کم کیا ہے۔ دوسری جانب اس ڈیوائس پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کی ڈیوائسز کی موجودگی سے کھانے پینے کے معاملے میں احتیاط کا تصور بالکل ختم ہوجائے گا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ پہلے ناک تک کھانا ٹھونسا جائے اور پھر قے کے ذریعے معدہ خالی کیا جائے۔
یہ ڈیوائس ایک نالی اور اس سے منسلکہ پمپ پر مشتمل ہے۔ اس نالی کو پندرہ منٹ کے آپریشن کے ذریعے پیٹ سے معدے میں داخل کیا جاتا ہے۔ اس نالی کے بیرونی سرے پر پمپ نصب ہوتا ہے۔یہ پمپ خوراک معدے سے کھینچنے کے علاوہ پانی سے معدے کی دھلائی بھی کرتا ہے۔ جس وقت یہ ٹیوب استعمال میں نہیں ہوتی ہے، اس وقت اس کے سرے کو ایک خاص طرح کے سٹاپر کی مدد سے بند کیا جاتا ہے۔ اس ڈیوائس کی مدد سے لی گئی خوراک کا ایک تہائی حصہ تک نالی میں بہایا جاسکتا ہے۔ اس نالی کو فعال بنانے کیلئے ضروری ہے کہ خوراک اچھی طرح چبا کے لی جائے تاکہ بڑے ٹکڑوں کے نالی میں رکاوٹ بننے سے روکا جاسکے۔ اس ڈیوائس کو پسند کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گیسٹرک بینڈ سرجری کی ہی مانند وزن کم کرنے کا ایک متبادل طریقہ کار ہے۔ گیسٹرک بینڈ سرجری میں معدے کے منہ پر بینڈ باندھ کے معدے کا حجم کم کیا جاتا ہے تاہم وہ ہر مریض کیلئے فائدہ مند ثابت نہیں ہوتی ہے جبکہ اس میں کوئی خطرہ بھی نہیں ہے اور موٹاپے کے حوالے سے نتائج بھی بے حد حیران کن ہیں۔ دوسری جانب نیشنل اوبیسٹی فورم کے ٹیم فرائی کہتے ہیں کہ یہ ڈیوائس قے کرنے کے مترادف ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ڈیوائس لوگوں کو جانوروں کی طرح کھانے پینے کی ترغیب دیتی ہے اور یہ تسلی بھی دیتی ہے کہ انہیں اسکے نتائج بھی نہیں بھگتنا پڑیں گے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…