جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

فیس بک خودپسندی کے لیے بہترین ویب سائٹ؟

datetime 25  جولائی  2015 |
A smartphone user shows the Facebook application on his phone in the central Bosnian town of Zenica, in this photo illustration, May 2, 2013. Facebook Inc's mobile advertising revenue growth gained momentum in the first three months of the year as the social network sold more ads to users on smartphones and tablets, partially offsetting higher spending which weighed on profits. REUTERS/Dado Ruvic (BOSNIA AND HERZEGOVINA - Tags: SOCIETY SCIENCE TECHNOLOGY BUSINESS)

اسلام آباد(نیوزڈیسک )الاباما یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹس خاص طور پر فیس بک خود پسند افراد کے لیے جنت سے کم نہیں اور لوگ اسے اپنے لیے مثالی پلیٹ فارم تسلیم کرتے ہیں کیونکہ وہاں وہ لوگوں کو اپنی ذات کے بارے میں بات کرنے کے لیے مدعو کرسکتے ہیں۔دلچسپ امر یہ ہے کہ ان کی روزمرہ کی زندگی کی چاہے جتنی بھی معمولی بات ہو وہ اس کو سامنے لاکر لوگوں سے لائکس اور تعریفی کمنٹس کے ذریعے اپنی انا کو مزید توانا کرسکتے ہیں۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ خودپسندی کے عادی نہیں ہوتے وہ فیس بک پر اتنے سرگرم بھی نہیں ہوتے جبکہ اپنے آپ کو پسند کرنے والے افراد اپنی تشہیر میں زیادہ مگن رہتے ہیں اور اس ویب سائٹ کو خود کو منظرعام پر لانے اور لوگوں کی ستائش حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔تحقیق کے دوران محققین نے فیس بک صارفین میں خودپسندی کی سطح کا جائزہ لے کر ان کی پروفائلز تک رسائی حاصل کی اور ان کے سوشل نیٹ ورکس پر لوگوں کے آنے والے ردعمل یعنی لائکس اور کمنٹس کی تعداد کا جائزہ لیا۔اس کے بعد سامنے آنے والے نتائج حیران کن تھے جن کے مطابق فیس بک پر پوسٹ کرنے والا جتنا زیادہ اپنی تشہیر کرنے لگتا ہے اسے سائٹ پر لوگوں کی توجہ اتنی ہی کم ملنا شروع ہوجاتی ہے۔دوسروں سے فائدہ اٹھانے والے اور ہر چیز پر اپنا استحقاق سمجھے والے افراد کو خودپسندی کے بدترین اثرات کا سامنا ہوتا ہے کیونکہ فیس بک صارفین ایسے لوگوں کی شناخت کرکے انہیں نظرانداز کرنا شروع کردیتے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…