جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

ایک ٹن ہاتھی دانت کی تباہی

datetime 20  جون‬‮  2015 |

نیویارک (نیوزڈیسک )دنیا میں ہاتھی دانت کا کاروبار ہر برس براعظم افریقہ میں 35 ہزار ہاتھیوں کی ہلاکت کی وجہ بنتا ہے۔امریکی شہر نیویارک کے مشہور سیاحتی مقام ٹائمز سکوائر پر ایک ٹن ہاتھی دانت تباہ کیا گیا ہے۔
اس اقدام کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ ہاتھی دانت کی غیرقانونی تجارت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
یہ ہاتھی دانت امریکی حکام نے نیویارک اور فلاڈیلفیا سے ضبط کیے تھے اور انھیں چٹانیں توڑنے والی مشین کی مدد سے ذرہ ذرہ کر دیا گیا۔
جنگلی حیات کے تحفظ کی سوسائٹی کا کہنا ہے کہ دنیا میں ہاتھی دانت کا کاروبار ہر برس براعظم افریقہ میں 35 ہزار ہاتھیوں کی ہلاکت کی وجہ بنتا ہے۔
ہاتھی دانت کی تباہی کی تقریب کے موقع پر امریکی اداکارہ کرسٹن ڈیوس نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ہاتھی دانت سے بنی اشیا خریدنے سے گریز کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان جانوروں کو ہر 15 منٹ بعد ہلاک کیا جا رہا ہے اور یہ بہت خوفناک موت ہے۔ اگر ہم نے اب کچھ نہ کیا تو دس سال بعد ایک بھی ہاتھی نہیں بچے گا۔
نیویارک میں تباہ کیا جانے والا زیادہ تر ہاتھی دانت حکام نے فلاڈیلفیا میں نوادارت کے تاجر وکٹر گورڈن سے ضبط کیا تھا۔
جنگلی حیات کے تحفظ کی سوسائٹی کے ترجمان جان کیلویلی کا کہنا تھا کہ یہ غیرقانونی چیز تھی اور ہمارے خیال میں اس کی تباہی سے نہ صرف اس کا تجارتی استعمال کرنے والوں کو پیغام ملا ہے بلکہ اس کے فروخت ہونے کا امکان بھی ختم ہوگیا ہے۔
امریکی محکم داخلہ کی سیکریٹری سیلی جیول بھی اس موقع پر موجود تھی۔ انھوں نے کہا کہ آج ہاتھی دانت کی تباہی دنیا کے لیے ایک پیغام ہے کہ امریکہ جنگلی حیات سے جڑے جرائم کو برداشت نہیں کرے گا۔
نیویارک میں تباہ کیا جانے والا زیادہ تر ہاتھی دانت حکام نے فلاڈیلفیا میں نوادارت کے تاجر وکٹر گورڈن سے ضبط کیا تھا۔ گورڈن کو اس معاملے میں سنہ 2014 میں ڈھائی برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…