اسلام آباد(نیوزڈیسک)گوگل سے قبل کئی ٹیکنالوجی کمپنیاں کام کررہی تھیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ کمپنیاں یا تو ختم ہوگئیں یا پھر ان کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی اور وہ میدان عمل سے تقریباًباہر نکل گئیں۔لیکن گوگل نے بعد میں آنے کے بعد بھی دنیا میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔آخر اس بات کی کیا وجہ ہے کہ گوگل سب سے آگے ہے اور باقی کاروبار تباہ ہورہے ہیں یا وہ بہت پیچھے ہیں۔
گوگل کے سربراہ ایرک شمیڈیٹ نے اس راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر میں زیادہ کاروبار اس لئے تباہ ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ ایک کام تو بہت اچھے طریقے سے سرانجام دیتے ہیں لیکن دوسرے کام کے لئے سوچتے بھی نہیں اور اس پر ان کی توجہ بالکل بھی نہیں ہوتی۔اس کا کہنا تھا کہ ایسی کمپنیاں اپنا ویڑن وسیع نہیں کرتیں اور آنے والے وقت کی ضرورتوں کو صحیح طریقے سے نہیں دیکھ پاتیں۔اس کا کہنا تھا کہ گوگل ان تمام باتوں پر توجہ دیتا ہے جو وقت کی ضرورت ہیں کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ ٹیکنالوجی میں تبدیلی ایک ارتقائی عمل نہیں ہے بلکہ یہ ایک انقلابی عمل ہے۔ایرک کا کہنا تھا کہ گوگل کی حکمت عملی نہ صرف موجودہ دور کی امنگوں کی تکمیل ہے بلکہ ہم آنے والے کل پر بھی گہری نظر رکھنا ہے۔
گوگل سب سے آگے ہے سربراہ ایرک شمیڈیٹ نے اس راز سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)
-
دکانوں اور مارکیٹس کے نئے اوقات کار جاری، اب کتنے بجے بند ہوں گی؟
-
اطالوی وزیراعظم کا اپنی نازیبا تصویر پر ردعمل
-
وزیراعظم اپنا گھر پروگرام : قرض حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے اہم خبر
-
بجلی کے بھاری بلوں میں ریلیف! بجلی صارفین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
اپریل میں بارشیں معمول سے زیادہ ریکارڈ، آئندہ 3ماہ کا موسمی آئوٹ لک بھی جاری
-
اسلام آباد میں 30 سالہ فرخ چوہدری کے اغواء اور ہلاکت کا معمہ حل
-
معروف اداکار کی سیاسی جماعت بازی لے گئی
-
گاڑیوں کی خریداری۔۔! نیا حکم نامہ جاری
-
گرمی کی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے موسم گرما کی تعطیلات کا شیڈول جاری کردیا
-
پیدائش سے 5 سال تک کے بچوں کو 3 ہزار روپے وظیفہ دینے کا فیصلہ
-
زلزلے کے جھٹکے ، لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے
-
قیامت خیز گرمی سے 9 افراد جاں بحق، 2 روز میں اموات 19 ہوگئیں
-
ایران امریکا جنگ: یو اے ای میں رہنا پاکستانیوں کیلئے مشکل ہوگیا، سیکڑوں ہم وطن واپس پہنچ گئے



















































