جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

موت کی پیشنگوئی کرنے والا کیلکولیٹر تیار

datetime 5  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )طبّ و صحت کے شعبوں کے محققین نے سائنسی بنیادوں پر موت کے خطرات سے خبردار کرنے والا ایک ایسا کیلکولیٹر تیار کیا ہے، جو کسی بھی شخص کو یہ بتا سکتا ہے کہ آیا اگلے پانچ سال کے اندر اندر وہ موت کے منہ میں جا سکتا ہے۔نیوز ایجنسی روئٹرز نے لندن سے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس کیلکولیٹر کے ذریعے یہ محققین لوگوں میں اپنی صحت کو بہتر بنانے کے حوالے سے زیادہ بہتر آگہی کی امید کر رہے ہیں۔دراصل یہ ایک سوالنامہ ہے، جس میں کوئی درجن بھر سوالات رکھے گئے ہیں۔ ان میں آپ سے مثلاً یہ پوچھا جاتا ہے کہ آپ کے پاس کتنی کاریں ہیں یا آیا آپ عام طور پر آہستہ یا تیز چلتے ہیں۔ کاروں کی تعداد سے آپ کی خوشحالی کے بارے میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے جبکہ تیز چلنا اچھی صحت کی علامت تصور کیا جاتا ہے۔ محققین کے مطابق یہ کیلکولیٹر چالیس سال سے لے کر ستر سال تک کی عمر کے کسی برطانوی شہری کو یہ بتا سکتا ہے کہ اگلے پانچ برسوں کے اندر اندر ا±س کے انتقال کر جانے کے خطرات کس حد تک ہیں۔محققین نے یہ کیلکولیٹر ایک فلاحی ادارے ’سینس اباو¿ٹ سائنس‘ کے ساتھ مل کر تیار کیا ہے۔ یہ ادارہ لوگوں کو سائنسی اور طبّی دعوے سمجھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ اس کیلکولیٹر کے نتیجے میں لوگوں میں اپنی صحت کے حوالے سے شعور اور آگہی میں اضافہ ہو گا اور مستقبل میں فیملی ڈاکٹروں کو اس کی مدد سے انتہائی زیادہ خطرات سے دوچار مریضوں کو پہچاننے میں مدد مل سکے گی۔اس کیلکولیٹر کے بارے میں تفصیلات ’دی لینسٹ‘ نامی طبی جریدے میں شائع ہوئی ہیں۔ اس تحقیق کے معاون محقق سویڈن کے کیرولنسکا انسٹیٹیوٹ سے وابستہ آندریا گینا نے بتایا کہ ’کسی قسم کے لیبارٹری ٹیسٹ یا جسمانی معائنے کے بغیر آپ صرف ایک مختصر سے آن لائن سوالنامے ہی کی مدد سے آئندہ پانچ سال کے اندر اندر موت کے ممکنہ خطرات کو جانچ سکتے ہیں‘۔اس سوالنامے کی تیاری کے سلسلے میں گینا اور سویڈن کی اپسالا یونیورسٹی میں ا±ن کے ساتھی محقق ایرک انگلسن نے ا±ن اعداد و شمار کا تجزیہ کیا، جو برطانیہ کے بائیو بینک نے 2006ءاور 2010ءکے درمیان چالیس تا ستّر سال کے بالغ برطانوی شہریوں کے بارے میں جمع کیے تھے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…