جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

ان غباروں کی مدد سے اب دنیا بھر میں انٹرنیٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

datetime 5  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) انٹرنیٹ، اس وقت ٹیکنالوجی سے جڑے کسی بھی فرد کی زندگی کیلئے بے حد اہم ہوچکا ہے۔ اس کے باوجود بھی دنیا کے بہت سے خطے اور بہت سے افراد ایسے بھی ہیں ، جنہیں ابھی تک انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا کی کل آبادی کا صرف ساٹھ فیصد حصہ انٹرنیٹ کی سہولت سے فیضیاب ہوسکتا ہے۔ اگر کوئی ایسی سہولت ہو جس کی وجہ سے دنیا کے ہر بچے تک انسائیکلوپیڈیا کی سہولت موجود ہو، ہر ڈاکٹر کو اپنی مہارت اور پیشے کے بارے میں تازہ ترین معلومات اور جدید ترین تحقیق تک رسائی حاصل ہو، کسان فصل کاٹنے سے پہلے یہ جان سکیں کہ بارش کب آئے گی تو زندگی یقینی طور پر بے حد آسان ہوسکتی ہے۔ اسی سوچ کے پیش نظر گوگل نے ”پروجیکٹ لون“ شروع کیا تھا۔ اس پروجیکٹ کا اہتمام 2013میں نیوزی لینڈ میں کیا گیا تھا۔ اس کے تحت جنوبی نیوزی لینڈ میں تیس دیوہیکل غبارے چھوڑے گئے تھے۔ گراو¿نڈ سٹیشنز سے جڑے یہ غبارے دراصل وائر لیس سگنل کی مانند ڈیوائس کے حامل تھے جنہیں لون نیٹ ورک کا نام دیا گیا۔ اس آزمائشی تجربے کے شرکا کو خاص قسم کے سم کارڈز دیئے گئے تھے جس کے ذریعے انہوں نے اپنے فونز لون نیٹ ورک سے کنیٹکٹ کئے۔ اس سلسلے میں خلا میں موجود غباروں میں موجود نیٹ ورک کا دائرہ کار بے حد وسیع تھا اور انتہائی بلندی پر ہونے کی وجہ سے اس کے نیچے موجود تمام افرادکیلئے انٹرنیٹ تک رسائی آسانی تھیے۔ یہ تجربہ کامیابی سے ہمکنار ہوا اور سائنسدان مزید تفصیلی تجربے کے متحمل ہوسکے تاہم بڑے پیمانے پر کرنے کیلئے ماہرین کو غباروں کی ٹریکنگ، ان کی واپسی کا ریکارڈ بھی رکھنا پڑتا اور ماحول کے اعتبار سے ان کے سفر پر نگاہ بھی رکھنا پڑتی۔ جس پر کام کے بعد آخر کار گوگل نے اعلان کیا ہے کہ وہ پروجیکٹ لون کو کمرشل سطح پر چلانے کے قریب ہیں۔ گوگل کا یہ پروجیکٹ بلاشبہ انٹرنیٹ کی دنیا میں ایک انقلابی تبدیلی لائے گا جب انٹرنیٹ یوزرز کی تعداد یکدم بہت بڑھ جائے گی اور انٹرنیٹ پر ٹریفک کو کنٹرول کرنے کیلئے کمپنیز کو اپنے سرورز بہترصلاحیتوں کے حامل بنانے پڑیں گے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…