جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

چھوٹے ہائیڈرولک روبوٹ تیار کرنے والا پاکستانی سائنسدان

datetime 17  مئی‬‮  2015 |

واشنگٹن(نیوزڈیسک)پاکستانی سائنسدان، ڈاکٹر حمزہ خان نےجنیوا یونیوسٹی، اٹلی کے پروجیکٹ کے تحت، ہائیڈرولک کی مدد سے چلنے والا ’چار ٹانگوں والا چھوٹا روبوٹ‘ تیار کر لیا ہے، جو غیر فوجی مقاصد کے لئے استعمال کیا جا سکے گا۔اپنے پروجیکٹ پر مقالہ پیش کرنے کے لئے، وہ اِن دِنوں ’بوسٹن ربوٹیک کانفرنس‘ میں شرکت کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر حمزہ خان نے بتایا کہ کانفرنس میں ان کے روبوٹ کو پذیرائی ملی۔ تاہم، انھوں نے کہا کہ وہ یہ نہیں چاہتے کہ ان کی تیار کردہ ٹیکنالوجی انسانوں کو مارنے کے لیے استعمال ہو۔انھوں نے بتایا کہ فوجی مقاصد کے لیے پہلے ہی امریکہ میں ہائیڈرولک روبوٹ بنائے جا چکے ہیں۔ تاہم، بقول ان کے، ’یہ بہت بھاری ہیں اور نہایت سست روی سے جنبش کرتے ہیں‘۔ڈاکٹر حمزہ نے بتایا کہ ان کے ڈیزائن کردہ روبوٹ بہت چھوٹے ہیں اور چابک دستی سے اپنا کام کرتے ہیں؛ اور انھیں ریسکو مقاصد کے لئے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ڈاکٹر حمزہ خان نے روبوٹکس میں ہی پی ایچ ڈی کی ہے۔ دراصل، یہ پروجیکٹ ان کی ڈاکٹوریٹ کا ہی حصہ تھا۔ تاہم، اس سے پہلے انھوں نے وارسا یونیوسٹی پولینڈ اور جنیوا یونیورسٹی اٹلی سے ماسٹرس کی ڈگری بھی لی تھی۔ڈاکٹر حمزہ خان پاکستان کے علاقے میانوالی میں پیدا ہوئے اور انھوں نے اسلام آباد کی ایئر یونیورسٹی سے بھی ماسٹرس کی ڈگری حاصل کی۔ انھیں یونیورسٹی نے میڈل سے نواز۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی تمام تعلیم اسکالر شپ سے مکمل کی، اور رسرچ میں بھی انھیں یورپی یونیورسٹیز کی اسکالر شپ حاصل رہی۔ڈاکٹر حمزہ خان کو خدشہ ہے کہ ان کی ٹیکنالوجی فوجی مقاصد کے لئے استعمال ہوجائے گی۔ اس لئے، انھوں نے اب ہائیڈرولک روبوٹ کو چھوڑ کر برطانیہ میں میڈیکل روبوٹکس پر تحقیق شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے؛ اور اس مقصد کے لئے کوئن الزبتھ کے نامزد کردہ پروفیسر کی نگرانی حاصل ہوگئی ہے۔ایک سوال پر، ڈاکٹر حمزہ خان کا کہنا تھا کہ پاکستانی نوجوان صلاحیتوں سے مالامال ہیں، لیکن ملک میں تحقیق کے لئے وسائل موجود نہیں، جس کی وجہ سے، نوجوانوں میں جدید ٹیکنالوجی پر تحقیق کے رجحانات بھی نہیں پائے جاتے۔تاہم، انھوں نے پاکستان کی دو یونیورسٹیوں کے دو طلبہ کو اپنی نگرانی میں شامل کرکے روبوٹک ٹیکنالوجی پر تحقیق کا آغاز کردیا ہے



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…