جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

اڑن طشتریوں سے مشابہ سپیس کرافٹ کا ڈیزائن تیار

datetime 10  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) اگر ماہرین مستقبل میں سپیس کرافٹس تیار کرنے کے قابل ہوئے تو فیراری کمپنی کا تیار کردہ ماڈل کیسا دکھائی دے گا؟ یہ سوال فیراری کمپنی کے ڈیزائن ڈائریکٹر فلاویو مینزونی سے بھی اکثریت پوچھا کرتی تھی اور اسی لئے انہوں نے ایسی تصوراتی گاڑی کے چند دلچسپ تھری ڈی کمپیوٹر جینریٹڈ ماڈلز تیار کئے ہیں۔ ان ماڈلز کو دیکھ کے یہ اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ فیراری کی تیار کردہ سپیس کرافٹ اڑن طشتریوں، فارمولہ ون گاڑیوں اور رے فش سے ملتی جلتی ہوگی۔ فلاویو سائنس فکشن کے بچپن سے ہی دلدادہ ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ سے ہی یہ خواب دیکھا کرتے تھے کہ ان کے گھر کے پیچھے والی چھت پر کبھی کوئی اڑن طشتری اترے۔ اس پروجیکٹ پر کام کرتے ہوئے انہیں جس قدر لطف آیا، اس سے قبل کسی دوسرے ڈیزائننگ پراجیکٹ کے دوران نہیں آیا کیونکہ اس پراجیکٹ کے ذریعے انہیں اپنے اسی خوابوں کی گاڑی کو حقیقت کا روپ دینے میں مدد ملی۔ اس گاڑی میں فیراری کی مخصوص علامت سرخ رنگ شامل ہے جبکہ اس کا فرنٹ سپوائلر میں فارمولہ ون کار سے ملتے جلتے ڈیزائن کی جھلک بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ اس مقصد کیلئے فلاویو نے ابتدا میں پنسل سکیچز تیار کئے اور بعد ازاں تھری ڈی ایکسپرٹس نے اس کے تھری ڈی ماڈلز تیار کئے۔ اس کرافٹ کی باڈی درمیان سے دو حصوں میں تقسیم دیکھی جاسکتی ہے جبکہ اس میں پروں کو ایسے شیپ دی گئی ہے کہ یہ پشت کی جانب مڑے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے یہ سڑکوں پر ہونے کی صورت میں جگہ بھی کم گھیریں گے۔ گاڑی کی رنگت اگرچہ سٹیل گرے سی دکھائی گئی ہے تاہم درمیانی حصے مں سرخ لکیر کے ذریعے فارمولہ ون کا ”سگنیچر کلر“ بھی شامل کیا گیا ہے۔ فضا میں اڑنے کیلئے یہ گاڑی بہترین انتخاب دکھائی دیتی ہے تاہم اس میں پہیوں کی کمی کے سبب ایسا لگتا کہ فلاویو کے خوابوں کی سپیس کرافٹس سڑکوں پر دوڑا نہیں کرتے تھے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…