نیو یارک(نیوز ڈیسک) سائنس دانوں نے کہا ہے کہ دنیا میں بڑے جنگلی جانوروں کی آبادی کم ہو رہی ہے جس سے خطہ ارض ‘خالی ہو جانے’ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ تحقیق کے مطابق پودے کھا کر گزارہ کرنے والے تقریباً 6 فیصد کے قریب بڑے جانور جن میں گینڈے، ہاتھی اور گوریلے شامل ہیں، کے معدوم ہونے کا خطرہ ہے۔ سائنس ایڈوانس نامی جریدے میں شائع ہونے والے تجزیے میں چرندوں کی 74 اقسام پر غور کیا گیا، تجزیے کے بعد اس صورتِ حال کا ذمہ دار بڑے جانوروں کے مسکن کا باقی نہ رہنا اور ان کا غیر قانونی شکار کو ٹھہرایا گیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل گوشت خور جانوروں پر کی جانے والی ایک تحقیق سے بھی ان جانوروں کی آبادی میں کمی کی ایسی ہی وجوہات سامنے آئی تھیں۔
چارہ خور جانوروں پر کی جانے والی اس تحقیق کی قیادت اوریگن سٹیٹ یونیورسٹی کے پرفیسر ولیم رِپل نے کی۔ تحقیق میں ان جانوروں کو شامل کیا گیا جن کا وزن 100 کلو گرام سے زیادہ تھا اور ان میں رینڈیئر یا قطبی ہرن سے لے کر افریقہ کے ہاتھی بھی شامل تھے۔ پروفیسر ولیم کا کہنا ہے کہ ‘ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی نے گھاس پھوس کھا کر گزارہ کرنے والے جانوروں کی تمام اقسام کا تجزیہ کیا ہو۔ جس طرح سے بڑے جانور ختم ہوتے جا رہے ہیں اس سے جنگلوں میں وسیع و عریض گھاس بھرے علاقے، چراہ گاہیں اور صحراو¿ں میں ارضی منظر خالی ہو رہا ہے۔
بڑے جانوروں کا سب سے زیادہ نقصان جنوب مشرقی ایشیا، انڈیا اور افریقہ میں ہو رہا ہے۔ آکسفرڈ یونیورسٹی میں جنگلی حیات کے تحفظ پر تحقیق کرنے والے یونٹ سے وابستہ پروفیسر ڈیوڈ میکڈونلڈ بھی بڑے چرندوں پر تحقیق کرنے والے پندرہ بین الاقوامی سائنسدانوں میں شامل تھے۔ وہ کہتے ہیں ‘بڑے گوشت خور جانور جن میں شیر یا بھیڑیے شامل ہیں انھیں ہولناک مسائل کا سامنا ہے۔ وہ براہِ راست ظلم کا نشانہ بنتے ہیں، ان کا بہت زیادہ شکار کیا جاتا ہے اور ان کے ٹھکانے ختم ہو جاتے ہیں لیکن ہماری تحقیق سے ایک اور بات سامنے آئی ہے اور وہ یہ کہ ان جانوروں کے خوراک ذخیرہ کرنے کی جگہیں بھی ختم ہو رہی ہیں۔ اگر کھانے کو ہی کچھ نہیں تو جانوروں کے مسکن ان کے کس کام کے۔ تحقیق کے مطابق جانوروں میں کمی کے بہت سے عوامل ہیں جن میں ان کے ٹھکانوں کا اجڑ جانا، گوشت یا ان کے اعضائے جسمانی حاصل کرنے کے لیے جانوروں کا شکار وغیرہ شامل ہیں۔ تحقیق کار کہتے ہیں کہ جہاں گینڈے کے سینگ سونے سے زیادہ مالیت کے، ہیروں سے زیادہ قیمتی اور غیر قانونی مارکیٹ میں کوکین سے زیادہ نفع بخش ہوں وہاں افریقی گینڈے شاید آئندہ 20 برس میں معدوم ہو جائیں گے۔ بڑے جانوروں کا سب سے زیادہ نقصان جنوب مشرقی ایشیا، بھارت اور افریقہ میں ہو رہا ہے۔ یورپ اور شمالی امریکہ ان جانوروں کو معدوم کرنے والی لہر کا شکار پہلے ہی ہو چکے ہیں۔
جنگلی جانور نہ رہے تو کچھ نہ رہے گا، سائنسدان
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)
-
دکانوں اور مارکیٹس کے نئے اوقات کار جاری، اب کتنے بجے بند ہوں گی؟
-
گرمی کی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے موسم گرما کی تعطیلات کا شیڈول جاری کردیا
-
بجلی کے بھاری بلوں میں ریلیف! بجلی صارفین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
اسلام آباد میں 30 سالہ فرخ چوہدری کے اغواء اور ہلاکت کا معمہ حل
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان
-
گاڑیوں کی خریداری۔۔! نیا حکم نامہ جاری
-
ایرانی ریال خریدنے والوں کو مرکزی بینک نے خبردار کر دیا
-
پیدائش سے 5 سال تک کے بچوں کو 3 ہزار روپے وظیفہ دینے کا فیصلہ
-
زلزلے کے جھٹکے ، لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے
-
ایران امریکا جنگ: یو اے ای میں رہنا پاکستانیوں کیلئے مشکل ہوگیا، سیکڑوں ہم وطن واپس پہنچ گئے
-
سوزوکی نے پاکستان میں اپنی نئی گاڑی متعارف کرا دی
-
ملک میں سونے کی قیمت میں دو دن میں بڑا اضافہ
-
بیکٹیریل انفیکشن کے لئے استعمال ہونے والی اینٹی بائیوٹک پر پابندی عائد



















































