جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

جنگلی جانور نہ رہے تو کچھ نہ رہے گا، سائنسدان

datetime 3  مئی‬‮  2015 |

نیو یارک(نیوز ڈیسک) سائنس دانوں نے کہا ہے کہ دنیا میں بڑے جنگلی جانوروں کی آبادی کم ہو رہی ہے جس سے خطہ ارض ‘خالی ہو جانے’ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ تحقیق کے مطابق پودے کھا کر گزارہ کرنے والے تقریباً 6 فیصد کے قریب بڑے جانور جن میں گینڈے، ہاتھی اور گوریلے شامل ہیں، کے معدوم ہونے کا خطرہ ہے۔ سائنس ایڈوانس نامی جریدے میں شائع ہونے والے تجزیے میں چرندوں کی 74 اقسام پر غور کیا گیا، تجزیے کے بعد اس صورتِ حال کا ذمہ دار بڑے جانوروں کے مسکن کا باقی نہ رہنا اور ان کا غیر قانونی شکار کو ٹھہرایا گیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل گوشت خور جانوروں پر کی جانے والی ایک تحقیق سے بھی ان جانوروں کی آبادی میں کمی کی ایسی ہی وجوہات سامنے آئی تھیں۔
چارہ خور جانوروں پر کی جانے والی اس تحقیق کی قیادت اوریگن سٹیٹ یونیورسٹی کے پرفیسر ولیم رِپل نے کی۔ تحقیق میں ان جانوروں کو شامل کیا گیا جن کا وزن 100 کلو گرام سے زیادہ تھا اور ان میں رینڈیئر یا قطبی ہرن سے لے کر افریقہ کے ہاتھی بھی شامل تھے۔ پروفیسر ولیم کا کہنا ہے کہ ‘ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی نے گھاس پھوس کھا کر گزارہ کرنے والے جانوروں کی تمام اقسام کا تجزیہ کیا ہو۔ جس طرح سے بڑے جانور ختم ہوتے جا رہے ہیں اس سے جنگلوں میں وسیع و عریض گھاس بھرے علاقے، چراہ گاہیں اور صحراو¿ں میں ارضی منظر خالی ہو رہا ہے۔
بڑے جانوروں کا سب سے زیادہ نقصان جنوب مشرقی ایشیا، انڈیا اور افریقہ میں ہو رہا ہے۔ آکسفرڈ یونیورسٹی میں جنگلی حیات کے تحفظ پر تحقیق کرنے والے یونٹ سے وابستہ پروفیسر ڈیوڈ میکڈونلڈ بھی بڑے چرندوں پر تحقیق کرنے والے پندرہ بین الاقوامی سائنسدانوں میں شامل تھے۔ وہ کہتے ہیں ‘بڑے گوشت خور جانور جن میں شیر یا بھیڑیے شامل ہیں انھیں ہولناک مسائل کا سامنا ہے۔ وہ براہِ راست ظلم کا نشانہ بنتے ہیں، ان کا بہت زیادہ شکار کیا جاتا ہے اور ان کے ٹھکانے ختم ہو جاتے ہیں لیکن ہماری تحقیق سے ایک اور بات سامنے آئی ہے اور وہ یہ کہ ان جانوروں کے خوراک ذخیرہ کرنے کی جگہیں بھی ختم ہو رہی ہیں۔ اگر کھانے کو ہی کچھ نہیں تو جانوروں کے مسکن ان کے کس کام کے۔ تحقیق کے مطابق جانوروں میں کمی کے بہت سے عوامل ہیں جن میں ان کے ٹھکانوں کا اجڑ جانا، گوشت یا ان کے اعضائے جسمانی حاصل کرنے کے لیے جانوروں کا شکار وغیرہ شامل ہیں۔ تحقیق کار کہتے ہیں کہ جہاں گینڈے کے سینگ سونے سے زیادہ مالیت کے، ہیروں سے زیادہ قیمتی اور غیر قانونی مارکیٹ میں کوکین سے زیادہ نفع بخش ہوں وہاں افریقی گینڈے شاید آئندہ 20 برس میں معدوم ہو جائیں گے۔ بڑے جانوروں کا سب سے زیادہ نقصان جنوب مشرقی ایشیا، بھارت اور افریقہ میں ہو رہا ہے۔ یورپ اور شمالی امریکہ ان جانوروں کو معدوم کرنے والی لہر کا شکار پہلے ہی ہو چکے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…