جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

ایسی ٹیکنالوجی جس سے سے انسان کا وجود خطرے میں پڑ گیا

datetime 2  مئی‬‮  2015 |

لندن(نیوزڈیسک)ماہرین کو خدشہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت سمارٹ فونز اور سیٹ نیوو جیسے آلات پر دستیاب نقشوں پر اتنا زیادہ انحصار کرنا شروع ہوگئے ہیں کہ اب نقشہ بینی کی روایتی مہارت کے متروک ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔برطانیہ کے نقشہ سازی اور نقشہ بینی کے معروف ادارے رائل انسٹیٹیوٹ آف نیویگیشن کے مطابق نئی ٹیکنالوجی پر زیادہ انحصار کا مطلب یہ ہے کہ لوگ روایتی طریقوں سے اپنا راستہ تلاش کرنے کی صلاحت کھو رہے ہیں۔ خدشے کے پیش نظر آر آئی این کی خواہش ہے کہ سکولوں میں بچوں کو نقشہ بینی کی بنیادی تربیت حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ادارے کے صدر روجر میکنلے نے بتایا کہ ہمارہ معاشرہ نت نئے ’سوفٹ ویئرز کے نشے میں مبتلا ہو چکا ہے یہ فکرمندی کی بات ہے کہ آج کل کے بچے سکول اور گھر میں نئے نئے آلات پر تلاش کا بٹن دبانے کے علاوہ کچھ اور نہیں سیکھ رہے۔روجر میکنلے کے مطابق اکثر لوگ اپنی منزل پر پہنچنے کے لیے نہ تو کوئی نقشہ پڑھ سکتے ہیں اور نہیں ہی قطب نما استعمال کر سکتے ہیں ¾ستاروں کی مدد سے کسی مقام کی نشاندھی کی تو بات ہی چھوڑ دیںآر آئی این کے ڈائریکٹر پیٹر اینڈریوز نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات بڑی ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی انسانی سوچ کی جگہ نہ لے لے انھوں نے خبردار کیا کہ ضروری نہیں کہ سمارٹ فونز اور سیٹ نیووز میں لگے ہوئے جی پی ایس ہمیشہ آپ کو درست سمت ہی بتائیںمسٹر اینڈریوز نے بتایا کہ ہم لوگ ٹیکنالوجی کے خلاف نہیں ہیں۔ بلکہ ہم ٹیکنالوجی کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تاہم ہم اپنی عقل استعمال کیے بغیر ٹیکنالوجی پر انحصار کرنے کےخلاف ہیںاس سلسلے میں برطانیہ میں نقشہ سازی کے قومی ادارے آرڈنینس سروے نے کہاکہ اگر آپ نقشہ پڑھنے کا ہنر سیکھ لیتے ہیں تو آپ گھر سے باہر اپنے وقت سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں چاہے آپ اس وقت چہل قدمی کر رہے ہوں، سائیکل چلا رہے ہوں گھڑسواری کر رہے ہوں یا محض سیر کو نکلے ہوں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…