جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

ٹوئٹرنے ہائی لائٹ متعارف کروادیا

datetime 1  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) مائیکرو بلاگنگ کی سب سے بڑی ویب سائٹ ٹوئٹر نے حال ہی میں اپنا نیا فیچر ”ہائی لائٹ“ متعارف کروایا ہے۔ اس فیچر کی مدد سے کسی بھی یوزر کیلئے دن بھر کی وہ تمام سٹوریز جو کہ ٹرینڈ میں رہیں، دیکھنا آسان ہوگا، مجموعی طور پر یہ فیچر ان مصروف یوزرز کیلئے تیار کیا گیا ہے، جن کے پاس دن بھر گاہے گاہے ٹوئٹر کا جائزہ لینا مشکل ہوتا ہے اور ایسے میں وہ بہت سے اہم ٹوئٹس دیکھنے سے محروم رہ جاتے ہیں تاہم ہائی لائٹ کے ذریعے کسی بھی ٹوئٹر اکاو¿نٹ مالک کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ ان تمام افراد جنہیں وہ فالو کرتا ہے، ایک ہی بار ان سے متعلقہ تمام اہم سرگرمیاں دیکھ سکے۔
اس فیچر کے لانچ ہونے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ٹوئٹر کے لانچ کے تقریباً نو برس کے بعد اورکمپنی میں سرمایہ کاری کرنے والے اداروں یا افراد کی جانب سے استعمال کنندگان کی تعداد کو بڑھانے کے مطالبے کے دو برس بعد آخر کار ٹوئٹرکو یہ بات سمجھ میں آچکی ہے کہ یہاں پر جاری تیز رفتار نیوز فیڈ کو مسلسل فالو کرنا کسی بھی فرد کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس بارے میں ڈینیئل لیویٹین جو کہ دراصل دی آرگنائزڈ مائنڈ جیسی شہرہ آفاق کتاب کے لکھاری ہیں، یہ مانتے ہیں کہ انسانی دماغ کیلئے معلومات کے اس قدر وسیع خزانے کا یاد رکھنا بے حد مشکل ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ فی الحال ایک اوسط امریکہ تک آج سے بیس برس قبل کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ معلومات پہنچ رہی ہیں تاہم معلومات کی مقدار میں یہ اضافہ انسانی ذہن پر منفی اثرات ڈال رہا ہے۔ انسانی دماغ تک ضروری اور غیر ضروری ہر قسم کی معلومات مسلسل پہنچ رہی ہوتی ہیں، جن پر دماغ مسلسل کام کرتا ہے اور ان میں سے اہم معلومات کو یاد کرنے کا عمل جاری رکھتا ہے۔ اس عمل کے دوران دماغ ڈوپامین اور نوریپینفرین جیسے کیمیکلز پیدا کرتا ہے جس کی وجہ سے ان معلومات کو سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے لیکن جب آپ ٹوئٹر جیسے ویب پیج کو دیکھتے ہیں جہاں سیکنڈز کے حساب سے معلومات کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے تو ایسے میں دماغ کی معلومات پر عمل کرنے اور مذکورہ کیمیکلز کو پیدا کرنے کی صلاحیت بھی کمزور پڑنے لگتی ہے اور یوں کچھ دیر تک ٹوئٹر کا پیج دیکھنے کے بعد دماغ تھک جاتا ہے اور اسے بند کرنے کی نوبت آجاتی ہے۔
جرمنی کا میکس پلینک انسٹی ٹیوٹ انسانی دماغ کے معلومات کو پراسس کرنے اور ٹوئٹر پر ٹرینڈنگ کے بیچ تعلق کو جاننے کیلئے کی گئی ریسرچ کی روشنی میں پہلے ہی یہ دعویٰ کرچکا ہے کہ اوسط ذہنیت کا مالک فرد ٹوئٹر پر ایک گھنٹے میں زیادہ سے زیادہ تیس ٹوئٹس کو سمجھ سکتا ہے اور اس کے بعد اس کے دماغ کے کام کرنے کی رفتار سست پڑنے لگتی ہے۔مذکورہ تحقیق کی روشنی میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ٹوئٹر کیلئے سرمایہ کاروں کی فرمائش کے مطابق اپنی ویب سائٹ پر سائن ان کیلئے نئے یوزرز کو راغب کرنے کیلئے کوئی پرکشش منطق باقی نہ بچی ہے۔ اگر انٹرنیٹ یوزرز کو یہ شک پڑجائے کہ دراصل ان کی دماغی تھکاوٹ کی واحد وجہ ہی ٹوئٹر اور اس کی مصروف ترین فیڈ ہے تو ایسے میں کون اس ویب سائٹ پر جانا چاہے گا، یہی وہ خطرہ ہے جس کی وجہ سے ٹوئٹر اپنا نیا فیچر ’ہائی لائٹ“ متعارف کروانے پر مجبور ہوا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…