جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

موبائل فون کالاک اب کان سے کھلے گا

datetime 29  اپریل‬‮  2015 |

نیویارک(نیوزڈیسک)مشہور کمپنی ’یاہو‘ آج کل ایک نیا طریقہ دریافت کرنے کی کوشش کر رہی جس میں آپ کے موبائل کا تالہ یا لاک کسی مخصوص پاس ورڈ یا آپ کی انگلی کے نشان کی بجائے آپ کے کان سے کھلےگا۔اس کے علاوہ یاہو آپ کے سمارٹ فون کو چالو کرنے کا کوئی ایسا طریقہ نکانے کی کوشش بھی کر رہی ہے جس میں مستقبل میں سمارٹ فونز آپ کے فون پکڑنے کے انداز یا آپ کی ہتھیلی کی شناخت کر سکیں گے۔یاد رہے کہ موبائل فونز پر انگلیوں کے نشانات سے شناخت کا طریقہ خاصا مقبول ہے لیکن یہ طریقہ خاصا مہنگا بھی ہے۔ اس کے برعکس یاہو کا ارادہ ہے کہ وہ فون کی سکرین ایسی بنائے جو فون کے اصل مالک کی شناخت کر سکے۔یاہو کی لیبارٹری میں بنائے جانے والے اس نظام کو ’باڈی پرنٹ‘ کا نام دیا جا رہا اور اس کے ابتدائی تجربات 12 افراد پر کیے جا چکے ہیں۔اپنی ویب سائٹ پر یاہو کی ٹیم کا کہنا تھا کہ ’بیش قیمت ہونے کی وجہ سے انگلیوں کی شناخت کرنے والے سکینرز کا استعمال صرف سمارٹ فونز تک محدود ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے اس طریقے کے لیے جو سینسر استعمال کیا جاتا ہے اس کا بہت معیاری ہونا ضروری ہے اور اس کے لیے ہائی ریزولوشن کیمرہ بھی ضروری ہے۔‘ٹیم کے مطابق نئے طریقے میں ٹچ سکرین پر تصویر چڑھانے کے لیے اس کا ہائی ریزولوشن ہونا ضروری نہیں ہے کیونکہ ’ سکرین خاصی بڑی ہوتی ہے اور اس میں یہ اہلیت پیدا کی جا سکتی ہے کہ وہ استعمال کرنے والے کے کان، انگلیوں، ہتھیلی اور فون کو پکڑنے کے انداز سے پہچان لے کے فون اپنے اصل مالک کے پاس ہی ہے۔‘یاہو کے ابتدائی تجربات میں فونز نے 99.98 فیصد کامیابی سے مالک کی شناخت کی اور کانوں کے ذریعے شناخت 99.8 فیصد درست رہی۔یونیورسٹی کالج لندن کے کمپیوٹر سائنس کے شعبے سے منسلک بائیو میٹرک کی ماہر پروفیسر انجیلا ساسی کہتی ہیں کہ یاہو کا مجوزہ طریقے مستقبل میں خاصا کامیاب ہو سکتا ہے۔’اس معاملے میں تحقیق گذشتہ چند برسوں سے جاری تھی، تاہم اس کو عملی شکل حال ہی میں دی جا سکی ہے۔‘پروفیسر انجیلا ساسی کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں کہ شناخت کے لیے کانوں کو استعمال کیا جا رہا ہے، مثلاً سوئٹزرلینڈ میں چوری یا ڈکیتی کی وارداتوں کے مجرموں تک پہنچنے کے لیے یہی طریقہ استعمال کیا جاتا ہے۔’اکثر چور یہ جاننے کے لیے کہ گھر پر کوئی موجود ہے یا نہیں کھڑکیوں کے ساتھ کان لگا کر گھر کے اندر سے آنے والی آوازیں سننے کی کوشش کرتے ہیں۔‘اس لیے سوئٹزر لینڈ میں پولیس انگلیوں کی نشانات کی بجائے کانوں کے نشانات اکھٹے کرتی ہے۔اگرچہ آئی فونز کے جدید ترین ماڈلز اور چند دیگر سمارٹ فونز میں انگلیوں کے نشانات سے شناخت کرنے والے سکینر استعمال کیے جا رہے ہیں، لیکن یہ طریقہ زیادہ محفوظ نہیں سمجھا جاتا کیونکہ ہیکرز نے اس کا توڑ ڈھونڈ لیا ہے۔اِسی ماہ ایک سکیورٹی کمپنی (فائر آئی) کا کہنا تھا کہ ’سیمسنگ گیلکسی ایس 5‘ قسم کے فونز کو کھولنے کے لیے ہیکرز آپ کی انگلیوں کے نشانات کا عکس لے کر اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔یاہو کی طرز پر بائیو میٹرکس کی دنیا میں نئی تحقیق کے بارے میں پروفیسر انجیلا ساسی کا کہنا تھا کہ یہ طریقہ دراصل ’آپ کے رویوں یا مخصوص طریقوں‘ کی شناخت کرتا ہے، مثلاً آپ کوئی لفظ کیسے ٹائپ کرتے ہیں یا آپ فون کیسے پکڑتے ہیں۔‘



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…