نیویارک(نیوزڈیسک)مشہور کمپنی ’یاہو‘ آج کل ایک نیا طریقہ دریافت کرنے کی کوشش کر رہی جس میں آپ کے موبائل کا تالہ یا لاک کسی مخصوص پاس ورڈ یا آپ کی انگلی کے نشان کی بجائے آپ کے کان سے کھلےگا۔اس کے علاوہ یاہو آپ کے سمارٹ فون کو چالو کرنے کا کوئی ایسا طریقہ نکانے کی کوشش بھی کر رہی ہے جس میں مستقبل میں سمارٹ فونز آپ کے فون پکڑنے کے انداز یا آپ کی ہتھیلی کی شناخت کر سکیں گے۔یاد رہے کہ موبائل فونز پر انگلیوں کے نشانات سے شناخت کا طریقہ خاصا مقبول ہے لیکن یہ طریقہ خاصا مہنگا بھی ہے۔ اس کے برعکس یاہو کا ارادہ ہے کہ وہ فون کی سکرین ایسی بنائے جو فون کے اصل مالک کی شناخت کر سکے۔یاہو کی لیبارٹری میں بنائے جانے والے اس نظام کو ’باڈی پرنٹ‘ کا نام دیا جا رہا اور اس کے ابتدائی تجربات 12 افراد پر کیے جا چکے ہیں۔اپنی ویب سائٹ پر یاہو کی ٹیم کا کہنا تھا کہ ’بیش قیمت ہونے کی وجہ سے انگلیوں کی شناخت کرنے والے سکینرز کا استعمال صرف سمارٹ فونز تک محدود ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے اس طریقے کے لیے جو سینسر استعمال کیا جاتا ہے اس کا بہت معیاری ہونا ضروری ہے اور اس کے لیے ہائی ریزولوشن کیمرہ بھی ضروری ہے۔‘ٹیم کے مطابق نئے طریقے میں ٹچ سکرین پر تصویر چڑھانے کے لیے اس کا ہائی ریزولوشن ہونا ضروری نہیں ہے کیونکہ ’ سکرین خاصی بڑی ہوتی ہے اور اس میں یہ اہلیت پیدا کی جا سکتی ہے کہ وہ استعمال کرنے والے کے کان، انگلیوں، ہتھیلی اور فون کو پکڑنے کے انداز سے پہچان لے کے فون اپنے اصل مالک کے پاس ہی ہے۔‘یاہو کے ابتدائی تجربات میں فونز نے 99.98 فیصد کامیابی سے مالک کی شناخت کی اور کانوں کے ذریعے شناخت 99.8 فیصد درست رہی۔یونیورسٹی کالج لندن کے کمپیوٹر سائنس کے شعبے سے منسلک بائیو میٹرک کی ماہر پروفیسر انجیلا ساسی کہتی ہیں کہ یاہو کا مجوزہ طریقے مستقبل میں خاصا کامیاب ہو سکتا ہے۔’اس معاملے میں تحقیق گذشتہ چند برسوں سے جاری تھی، تاہم اس کو عملی شکل حال ہی میں دی جا سکی ہے۔‘پروفیسر انجیلا ساسی کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں کہ شناخت کے لیے کانوں کو استعمال کیا جا رہا ہے، مثلاً سوئٹزرلینڈ میں چوری یا ڈکیتی کی وارداتوں کے مجرموں تک پہنچنے کے لیے یہی طریقہ استعمال کیا جاتا ہے۔’اکثر چور یہ جاننے کے لیے کہ گھر پر کوئی موجود ہے یا نہیں کھڑکیوں کے ساتھ کان لگا کر گھر کے اندر سے آنے والی آوازیں سننے کی کوشش کرتے ہیں۔‘اس لیے سوئٹزر لینڈ میں پولیس انگلیوں کی نشانات کی بجائے کانوں کے نشانات اکھٹے کرتی ہے۔اگرچہ آئی فونز کے جدید ترین ماڈلز اور چند دیگر سمارٹ فونز میں انگلیوں کے نشانات سے شناخت کرنے والے سکینر استعمال کیے جا رہے ہیں، لیکن یہ طریقہ زیادہ محفوظ نہیں سمجھا جاتا کیونکہ ہیکرز نے اس کا توڑ ڈھونڈ لیا ہے۔اِسی ماہ ایک سکیورٹی کمپنی (فائر آئی) کا کہنا تھا کہ ’سیمسنگ گیلکسی ایس 5‘ قسم کے فونز کو کھولنے کے لیے ہیکرز آپ کی انگلیوں کے نشانات کا عکس لے کر اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔یاہو کی طرز پر بائیو میٹرکس کی دنیا میں نئی تحقیق کے بارے میں پروفیسر انجیلا ساسی کا کہنا تھا کہ یہ طریقہ دراصل ’آپ کے رویوں یا مخصوص طریقوں‘ کی شناخت کرتا ہے، مثلاً آپ کوئی لفظ کیسے ٹائپ کرتے ہیں یا آپ فون کیسے پکڑتے ہیں۔‘
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)
-
سعودی عرب کا پاکستانی شہریت ترک کرنے والوں کے لیے بڑا اعلان
-
اسلام آباد میں 258 چینی شہری گرفتار
-
آئی سی سی ورلڈکپ 2027 میں براہ راست رسائی حاصل کرنے والی 10 ٹیمیں فائنل
-
بارشوں کے نئے اسپیل کی پیشگوئی، گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان
-
منشیات کیس: عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کو بری کر دیا
-
رواں ہفتے تمام بینک 3 دن بند رہیں گے، اعلان ہوگیا
-
بجلی صارفین کو ریلیف ختم، ستمبر سے بلوں میں اضافے کا امکان
-
سابق کرکٹر عاقب جاوید کی بیٹی کی برطانیہ میں شادی، تصاویر وائرل
-
حکومت کاپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
شازیہ مری کی مبینہ جعلی ڈگری کا معاملہ، سندھ ہائیکورٹ نے 13 سال بعد فیصلہ سنادیا
-
انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کے لیے گفٹ اسکیم ! اہم خبر آگئی
-
معروف ٹک ٹاکر وکیل میاں بلال عبداللہ گرفتار
-
مسلسل تیزی کو بریک لگ گئی، سونے کی قیمتوں میں کمی



















































