اسلام آباد (نیو ز ڈیسک )دوران خطاب اس سے بڑھ کے شرمندگی کا باعث اور کچھ نہیں ہوسکتا کہ مخاطب افراد کو کمزور، کانپتی اور خوف سے بھرپور آواز سنائی دے۔ عام طور پر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ پریشان اور نروس ہونے کی صورت میں آواز کانپتی ہے تاہم ایسا نہیں ہے بلکہ بعض اوقات ایسی صورت میں بھی آواز کانپتی ہے جب بولنا والا فرد اعتماد سے بھرپور ہو۔ آواز کانپنے کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں تاہم اس کی بنیادی وجہ ووکل کارڈز پر پڑنے والا غیر ضروری دباو¿ ہوتا ہے۔ اگر آپ کی آواز دباو¿ کا شکار ہوتی ہے تو ضروری نہیں کہ یہ ووکل کارڈز پر دباو¿ کا ہی باعث ہو، عین ممکن ہے کہ سانس لینے میں مشکلات کی وجہ سے یا پھر پریشانی کے باعث سانس لینے میں دشواری کے اثرات آواز پر اثر پڑ رہا ہو، وجہ کچھ بھی ہو، کانپتی ہوئی آواز گفتگو سے اثر ختم کردیتی ہے، اس پر قابو پانے کے مختلف سادہ سے طریقے ہیں جن کے ذریعے اس صورتحال پر قابو پایا جاسکتا ہے۔کچھ لوگ بولنے کے دوران سانس نہیں لیتے ہیں اور جملہ ختم ہونے پر ہی سانس لینے کا انتظار کرتے ہیں۔ سانس کی کمی کی وجہ سے آواز کا نکلنا مشکل ہوتا ہے اور نتیجے میں آواز خراب ہوتی ہے۔ گفتگو کے دوران سانس لینے کا عمل جاری رکھنے کی مشق کریں۔ گہرے سانس لینے کی مشق کریں۔ عام طور پر لی جانے والی ہلکی پھلکی سانس دباو¿ میں اضافہ کرتی ہے جبکہ گہری سانسیں نروس ہونے کی کیفیت پر قابو پانے میں مدد دیتی ہے۔آپ خواہ تقریر کرنے جارہے ہوں، یا کسی پروجیکٹ کے بارے میں پریزینٹیشن دینا مقصود ہو، خود کو اس کیلئے تیار کریں، یعنی کہ بولنے کیلئے ضروری مواد اکھٹا کریں اور اسے اچھی طرح سمجھ لیں۔ اپنے ذہن میں ان نکات کو تیار کریں، جن کو پہلے یا اہم نکات کے طور پر بیان کرنا ہے۔ بلند آواز سے بولنے کی مشق کریں۔ اور ممکن ہو تو اس کی آڈیو یا ویڈیو ریکارڈنگ کریں۔ اس ریکارڈنگ کو سن کے آپ اپنی خامیوں پر قابو پاسکتے ہیں۔گفتگو کے اصل موقع سے قبل اپنے جسم سے فالتو توانائی نکال پھینکیں۔ یہ توانائی دباو¿ پیدا کرتی ہے، اس کیلئے عمارت کے گرد چکر لگائیں، سیڑھیاں اوپر نیچے چڑھیں اتریں یا کوئی بھی ایسا جسمانی کام کریں، جس سے آپ کی کچھ توانائی خرچ ہو، یہ کانپتی ہوئی آواز پر قابو پانے میں مدد دے گا۔ یہ طریقہ اعصابی تناو¿ کو بھی کم کرتا ہے۔ آپ چاہیں تو رقص بھی کرسکتے ہیں۔ ممکن ہو تو کسی ایسے کھیل میں حصہ لیجیئے جو کہ جسمانی مشقت کا ذریعہ ہو مثلاً بیڈمنٹن یا ٹینس وغیرہ۔کانپتی ہوئی آواز پر قابو پانے کا ایک آسان طریقہ خود کو پر اعتماد ظاہر کرنا ہے، آپ خواہ اعتماد سے عاری ہوں تاہم جھوٹ موٹ کا اعتماد ظاہر کرنے سے آپ خود بخود پراعتماد ہوجائیں گی۔ یاد رکھیں کہ پر اعتماد آواز کو سننا آسان ہوتا ہے اور آواز میں اعتماد پیدا کرنے کیلئے اس کا بلند ہونا ضروری ہے۔اپنے سامعین سے آنکھیں ملائیے۔ اگر آپ کو ہر فرد کی جانب دیکھتے ہوئے مسئلہ ہورہا ہے، تو شرکا میں شامل کسی ایسے فرد کی جانب دیکھیئے جو کہ آپ کیلئے سہارے کا باعث ہو۔ ان کی جانب دیکھنے سے آپ کے اندر موجود خوف خودبخود زائل ہونے لگے گا اور آواز سے کپکپاہٹ خود بخود ختم ہوجائے گی۔
گفتگو سے قبل آئینے میں دیکھ کے مشق کیجیئے۔
کانپتی آ واز پر قابو پانے کا طریقہ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)
-
سعودی عرب کا پاکستانی شہریت ترک کرنے والوں کے لیے بڑا اعلان
-
اسلام آباد میں 258 چینی شہری گرفتار
-
آئی سی سی ورلڈکپ 2027 میں براہ راست رسائی حاصل کرنے والی 10 ٹیمیں فائنل
-
بارشوں کے نئے اسپیل کی پیشگوئی، گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان
-
منشیات کیس: عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کو بری کر دیا
-
رواں ہفتے تمام بینک 3 دن بند رہیں گے، اعلان ہوگیا
-
بجلی صارفین کو ریلیف ختم، ستمبر سے بلوں میں اضافے کا امکان
-
سابق کرکٹر عاقب جاوید کی بیٹی کی برطانیہ میں شادی، تصاویر وائرل
-
حکومت کاپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
شازیہ مری کی مبینہ جعلی ڈگری کا معاملہ، سندھ ہائیکورٹ نے 13 سال بعد فیصلہ سنادیا
-
انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کے لیے گفٹ اسکیم ! اہم خبر آگئی
-
معروف ٹک ٹاکر وکیل میاں بلال عبداللہ گرفتار
-
مسلسل تیزی کو بریک لگ گئی، سونے کی قیمتوں میں کمی



















































