اسلام آباد (نیوز ڈیسک)چکوال میں 9 سالہ ہانیہ احمد کی ہلاکت کے مقدمے میں ایک نیا موڑ سامنے آیا ہے۔
مقتولہ کے والد عدیل احمد نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ واقعے کے دوران ڈاکوؤں کی جانب سے کوئی فائرنگ نہیں ہوئی، بلکہ ان کی بیٹی کی جان سی سی ڈی کے ایک اہلکار کی گولی لگنے سے گئی۔
آسٹریلوی شہریت رکھنے والی ہانیہ احمد گزشتہ ماہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ پاکستان آئی ہوئی تھیں۔ 10 جون کی رات چکوال میں پیش آنے والے ایک مبینہ ڈکیتی کے واقعے کے دوران وہ جاں بحق ہوگئی تھیں، جبکہ ان کے والد عدیل احمد اور 11 سالہ بھائی عفان زخمی ہوئے تھے۔ والدہ ڈاکٹر سدرہ خان اس واقعے میں محفوظ رہیں۔ اس سانحے پر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔
قبل ازیں پنجاب پولیس اور کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) نے اس واقعے کو اپنی “مجرمانہ غفلت” کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے غلطی تسلیم کی تھی، تاہم اب مقتولہ کے والد نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کو دی گئی درخواست میں مزید سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
عدیل احمد کے مطابق تھانہ سٹی کے سب انسپکٹر احسن عبداللہ نے مقدمے کی ایف آئی آر میں حقائق کو درست انداز میں درج نہیں کیا اور یہ تاثر دیا کہ فائرنگ ڈاکوؤں نے کی تھی، حالانکہ ان کے بقول ایسا نہیں تھا۔
درخواست میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ زخمی حالت میں ڈی ایچ کیو اسپتال پہنچنے کے بعد پولیس خدمت مرکز پر تعینات ایک کانسٹیبل نے ان کے ساتھ غیر مناسب رویہ اختیار کیا۔ والد کا دعویٰ ہے کہ علاج شروع ہونے سے پہلے انہیں ایک سادہ کاغذ پر زبردستی دستخط بھی کروائے گئے۔
عدیل احمد نے متعلقہ سب انسپکٹر اور کانسٹیبل کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تاکہ ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سزا مل سکے۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر صحافی اعجاز چیمہ نے بھی والد کے دعوؤں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندان نے پولیس اہلکاروں پر حقائق چھپانے، بدسلوکی کرنے اور دباؤ ڈال کر دستخط لینے جیسے الزامات عائد کیے ہیں۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ حکام کی جانب سے باضابطہ ردعمل سامنے آنا ابھی باقی ہے۔



















































