اسلام آباد (نیوز ڈیسک)ہالینڈ اور وینزویلا سے تعلق رکھنے والی دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا،
جنسی زیادتی اور بھاری تاوان کے مطالبے سے متعلق سامنے آنے والے مقدمے میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے رشتہ دار محمد رضا ڈار سمیت متعدد افراد کو نامزد کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے کیس درج کرنے کے بعد مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ایف آئی آر کے مطابق مرکزی ملزم محمد رضا ڈار کی دونوں خواتین سے اکتوبر 2025 میں سنگاپور میں ملاقات ہوئی تھی۔
الزام ہے کہ ملزم نے انہیں پاکستان کی سیر کی دعوت دی، اعتماد حاصل کیا اور ان کے لیے پاکستانی ویزوں کے انتظامات بھی خود کیے۔مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ دونوں خواتین 29 جون 2026 کو پاکستان پہنچیں تو انہیں ایئرپورٹ سے ہی اسلحے کے زور پر اغوا کر کے ڈیفنس کے ایک مقام پر منتقل کر دیا گیا، جہاں انہیں غیر قانونی طور پر قید رکھا گیا۔ شکایت کے مطابق دورانِ حراست خواتین کو متعدد بار مبینہ جنسی زیادتی کا سامنا کرنا پڑا۔ایف آئی آر میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ مرکزی ملزم نے خود کو بھی اغوا شدہ ظاہر کرنے کی کوشش کی تاکہ متاثرہ خواتین کو حقیقت کا اندازہ نہ ہو۔ اسی دوران دیگر ملزمان مبینہ طور پر خواتین پر تاوان کی رقم ادا کروانے کے لیے ذہنی اور جسمانی دباؤ ڈالتے رہے۔
متاثرہ خواتین کے بیان کے مطابق ملزمان نے انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اہلِ خانہ نے مطلوبہ رقم ادا نہ کی تو انہیں قتل کرنے اور لاشوں کے اعضا فروخت کرنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ خواتین نے الزام عائد کیا کہ ان سے زبردستی بڑی رقم بھی وصول کی گئی۔پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج ہونے کے بعد تحقیقات جاری ہیں اور تمام شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق تفتیش مکمل ہونے پر قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔



















































