اتوار‬‮ ، 28 جون‬‮ 2026 

جناح اسپتال کراچی کے اسپیشل وارڈ میں داخل امریکی خاتون کے نفسیاتی مریضہ ہونے کی تصدیق

datetime 5  فروری‬‮  2025 |

کراچی (این این آئی)جناح اسپتال کرچی کے شعبہ نفسیات کے سربراہ ڈاکٹر چنی لال نے کہا ہے کہ کراچی کے نوجوان سے آن لائن دوستی کے بعد کراچی آنے والی امریکی خاتون کی ذہنی اور جسمانی صحت کی بحالی کے لیے علاج جاری ہے لیکن مکمل صحت یابی میں وقت لگ سکتا ہے۔

جناح اسپتال کراچی کے اسپیشل وارڈ میں داخل امریکی خاتون کے نفسیاتی مریضہ ہونے کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ مریضہ کو دیگر طبی مسائل کا بھی سامنا ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکا سے آئی خاتون انیجا کا جناح اسپتال کراچی کے خصوصی وارڈ میں تاحال علاج ہے جہاں ان کی طبیعت میں بہتری آرہی ہے، لیکن وہ اب بھی نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں۔خاتون کبھی امریکا واپس جانے کی ضد کرتی ہیں تو کبھی پاکستان میں ہی رہنے کی بات کرتی ہیں، اس صورتحال میں میڈیکل بورڈ ان کی ذہنی کیفیت کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے۔

جناح اسپتال کرچی کے شعبہ نفسیات کے سربراہ ڈاکٹر چنی لال کے مطابق مریضہ کا امریکہ میں بھی نفسیاتی علاج جاری تھا، لیکن گزشتہ 6 ماہ سے انہوں نے ادویات لینا چھوڑ دی تھیں، جس کے باعث بائی پولر ڈس آرڈر کی علامات دوبارہ ظاہر ہوئیں۔خاتون کی مجموعی صحت کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا ہے جس کی سربراہی ڈاکٹر چنی لال کر رہے ہیں، جب کہ اسپتال کی انتظامیہ، میڈیکل اور نیورولوجی وارڈ کے ماہرین بھی اس میں شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ خاتون میں خون کی کمی پائی گئی تھی، جس کے بعد انہیں انتقال خون کیا گیا، ان کا سی ٹی اسکین، ایم آر آئی اور الٹرا سانڈ نارمل آیا ہے، مگر ان کے موڈ میں بار بار تبدیلی آتی ہے، جس کی وجہ سے وہ کبھی چڑچڑی ہو جاتی ہیں اور کبھی الجھن کا شکار دکھائی دیتی ہیں۔ڈاکٹر چنی لال کا کہنا ہے کہ ان کی ذہنی اور جسمانی صحت کی بحالی کے لیے علاج جاری ہے، لیکن مکمل صحت یابی میں وقت لگ سکتا ہے۔

ماہر نفسیات اور پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال آفریدی نے بائی پولر ڈس آرڈر کے حوالے سے بتایا کہ یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے جو ختم نہیں ہوتی، لیکن دوا اور تھراپی کے ذریعے اس کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اس بیماری میں مریض کی کیفیت میں اتار چڑھا آتا رہتا ہے، مریض کبھی روتا ہے اور کبھی ہنستا رہتا ہے۔ اس بیماری میں 2 فیصد لوگ مبتلا ہیں اور یہ مرض 80 فیصد وراثت (By Birth) میں ملتا ہے۔ اس مرض میں مبتلا زیادہ تر مریض ڈپریشن کا شکار رہتے ہیں، اور شدید ڈپریشن کی صورت میں مریض نشے اور خودکشی کی طرف بھی مائل ہو سکتا ہے۔ یہ مرض مرد اور خواتین دونوں میں پایا جاتا ہے۔

اس بیماری میں مریض اکثر الٹے سیدھے فیصلے کرتا ہے اور اپنے آپ کو نقصان پہنچانے کی سوچ بھی پیدا کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بائی پولر ڈس آرڈر کی تین اقسام ہیں جن میں بائی پولر ون، بائی پولر ٹو اور سائیکلو تھیمیا شامل ہیں۔ واضح رہے کہ بائی پولر ڈس آرڈر میں مبتلا شخص ایک وقت میں خود کو بہت خوشگوار محسوس کرتا ہے اور دوسرے ہی لمحے وہ افسردگی میں گھرا ہوا پاتا ہے۔ یہ بیماری اس قدر بڑھ سکتی ہے کہ مریض خود کشی تک کرنے کی حد تک پہنچ جاتا ہے اور اپنے آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس مرض میں مبتلا مریض اپنے آپ پر قابو پانے کے قابل نہیں رہتا اور اپنے رویے پر قابو پانے میں ناکام ہو جاتا ہے۔ اس بیماری سے نمٹنے کے لیے ماہر نفسیات سے مشورہ کیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



دنیا کا سب سے بڑا غار


چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…