ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

اب تک ڈاکٹرز ،ہسپتال انہیں دو مرتبہ مردہ قرار دے چکے ہیں ‘ سعد یہ سہیل کا انکشاف

datetime 7  دسمبر‬‮  2024 |

لاہور( این این آئی)سابق رکن پنجاب اسمبلی سعدیہ سہیل رانا نے انکشاف کیا ہے کہ اب تک ڈاکٹرز اور ہسپتال انہیں دو مرتبہ مردہ قرار دے چکے ہیں ، ایک بار بار ہسپتال عملے نے مردہ قرار دے کر لاش گھر بھجوا دی تھی۔

ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایک بار انہیں کم عمری میں لاہور کے ایک معروف اور اچھی ساکھ رکھنے والے ہسپتال نے مردہ قرار دیا تھا۔ہسپتال والوں نے انہیں مردہ قرار دینے کے بعد ان کی لاش تک کو گھر بھجوا دیا گیا تھا اور اہل خانہ ان کی تدفین کا انتظار کر رہے تھے،میت پر سب لوگ والد کے کراچی سے آنے کا انتظار کر رہے تھے ،سعدیہ سہیل نے کہا کہ والد جیسے ہی گھر آئے، وہ ان کی میت کو لے کر کہیں چل پڑے ،کیونکہ انہیں یقین تھا کہ ان کی بیٹی زندہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ خدا کی رحم اور کرم سمیت والد کی محبت اور شفقت کی وجہ سے آج وہ زندہ ہیں، ورنہ 8 یا 9 سال کی عمر میں جب انہیں مردہ قرار دے کر ان کی لاش کو گھر بھجوایا گیا تھا تب ہی انہیں دفنا دیا گیا ہوتا۔سعدیہ سہیل نے بتایا کہ دوسری بار انہیں اس وقت مردہ قرار دیا گیا جب ان کے ہاں پہلے بچے کی پیدائش متوقع تھی۔

انہوں نے ڈاکٹرز اور ہسپتال کے نام بتانے سے گریز کیا تاہم واضح کیا کہ یو سی ایچ ہسپتال کے ڈاکٹرز نے ان کا علاج کرکے ان کی زندگی بچائی۔سعدیہ سہیل کے مطابق دوسری بار جب انہیں مردہ قرار دیا گیا تھا تب ان کے اپینڈکس کو پیٹ میں پھٹے 78 گھنٹے گزر چکے تھے اور ان کے پورے جسم میں زہر پھیل چکا تھا اور ان کی جسم کی رنگت تبدیل ہوکر سبز ہو چکی تھی۔پیٹ سمیت تقریبا تمام نظام ختم ہوچکا تھا، آنتیں بھی گل چکی تھیں لیکن یو سی ایچ ہسپتال کے ڈاکٹرز کی حاضر دماغی اور والد کی محبت اور شفقت نے انہیں دوبارہ بھی بچایا۔سعدیہ سہیل نے کہا کہ ان کے والد کا ماننا تھا کہ جب بھی ان کی بیٹی فوت ہوجائیں گی، سب سے پہلے انہیں دل میں تکلیف ہوگی اور دل کے ذریعے انہیں معلوم ہوجائے گا۔



کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…