اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

طالبہ سے مبینہ زیادتی کا واقعہ:کالج ڈائریکٹر، پرنسپل اور پروفیسر کے بیانات سامنے آگئے

datetime 16  اکتوبر‬‮  2024 |

اسلام آباد (نیوزڈ یسک)لاہور کے نجی کالج میں طالبہ سے مبینہ زیادتی کے واقعے پر کالج ڈائریکٹر آغا طاہر نے کہا ہے کہ پولیس کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے اور وہ اسے عوام کے سامنے پیش کرے۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے آغا طاہر نے بتایا کہ 12 اکتوبر کو یہ معاملہ ان کے علم میں آیا، جس پر فوری کارروائی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر مہم دیکھنے کے بعد پولیس نے ان سے رابطہ کیا، اور تمام فوٹیج پولیس کے حوالے کی گئی ہے، جس کی فارنزک جانچ سے حقائق سامنے آسکتے ہیں۔

آغا طاہر نے مزید کہا کہ انہوں نے ان طالبات سے بھی رابطہ کیا جو چھٹیوں پر تھیں، لیکن کوئی معلومات حاصل نہیں ہو سکیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر دعوے کرنے والی طالبات سے اپیل کی کہ وہ انہیں ان مقامات تک لے جائیں جن کا ذکر کر رہی ہیں۔انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ جس سکیورٹی گارڈ کا ذکر ہو رہا ہے، وہ اس دن چھٹی پر تھا۔ گارڈ کو فون کرکے بلایا گیا اور اب وہ پولیس کی حراست میں ہے۔

آغا طاہر نے سوال اٹھایا کہ پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج کیوں جاری نہیں کر رہی، جبکہ سکیورٹی گارڈ پر بچوں کو مارنے کا الزام بھی بے بنیاد ہے، اگر ایسا ہوا ہے تو فوٹیج پیش کی جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ حکومت نے کالج کی رجسٹریشن معطل کر دی ہے۔کالج پرنسپل نے اپنے بیان میں کہا کہ پارکنگ میں کوئی دروازے نہیں ہیں، اور جب ہفتے کی رات سوشل میڈیا پر یہ پوسٹ شیئر ہوئی، تو اسی دن پولیس نے تفتیش شروع کر دی تھی۔کالج پروفیسر عارف نے سوال اٹھایا کہ وزیر تعلیم نے تصدیق کے بغیر کیسے بیان جاری کر دیا، اور بتایا کہ سوشل میڈیا پر بیانات دینے والی 98 فیصد لڑکیاں ان کے ادارے کی طالبات نہیں ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…