اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

ذاکر نائیک کو پی ایچ ڈی کی اعزازی سند دینے پر 3 ارکان کی مخالفت

datetime 8  اکتوبر‬‮  2024 |

کراچی(این این آئی)جامعہ کراچی نے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے معروف اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کو پی ایچ ڈی کی اعزازی سند دینے کی منظوری دے دی۔تفصیلات کے مطابق اعزازی سند دینے کی باقاعدہ منظوری وائس چانسلر جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی کے زیر صدارت منعقدہ یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ کے اجلاس میں دی گئی تاہم سنڈیکیٹ کے تین اراکین نے اس سلسلے میں اپنے تحفظات کا اظہار اور مخالفت کی، تینوں اراکین جامعہ کراچی میں حکومت سندھ کی جانب سے نامزد ہیں۔

سنڈیکیٹ کے تین اراکین کی مخالفت کا انکشاف سنڈیکیٹ کے اجلاس کے بعد اجلاس کی جاری کی گئی روداد میں ہوا جس میں کہا گیا ہے کہ معروف اسکالر ڈاکٹر ذاکر عبدالکریم نائیک کو پی ایچ ڈی کی اعزازی سند دینے کے سلسلے میں خط یکم اکتوبر کو گورنر سیکریٹریٹ سے موصول ہوا۔روداد سے معلوم ہوا ہے کہ سنڈیکیٹ نے اکثریتی رائے سے مبلغ اسلام ڈاکٹر ذاکر نائیک کو پی ایچ ڈی کی اعزازی سند دیے جانے کی منظوری دی ہے تاہم سعدیہ جاوید، شاہدہ رحمانی اور صاحبزادہ معظم قریشی نے تحفظات کا اظہار کیا اور خاص طور پر خواتین کے حوالے سے ان کی رائے سے اختلاف کیا۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کو پی ایچ ڈی کی اعزازی سند دینے کی باقاعدہ سفارش صوبے کی سرکاری جامعات کے چانسلر کامران ٹیسوری کی جانب سے کی گئی تھی جس کے بعد جامعہ کراچی کی جانب سے اس سلسلے میں مروجہ پروٹوکولز پر عمل کرتے ہوئے کنٹرولنگ اتھارٹی حکومت سندھ کے محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کو خط لکھ کر اجازت طلب کی گئی تھی اور محکمہ کی جانب سے اس سلسلے میں آمادگی کے بعد سنڈیکیٹ کا اجلاس بلایا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…